جعلی دستاویزات پر بھرتیوں کا انکشاف، مودی حکومت کا انتظامی نظام تنقید کی زد میں

جعلی دستاویزات پر بھرتیوں کا انکشاف، مودی حکومت کا انتظامی نظام تنقید کی زد میں

بھارت میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے تقریباً 400 اہلکاروں کی تعلیمی اسناد اور اہلیت کی تصدیق کے معاملے نے بھرتی کے نظام پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

بھارتی جریدے دی پرنٹ کے مطابق دستاویزات کی تصدیق میں مبینہ خامیوں کے باعث ان اہلکاروں کی اہلیت مشکوک قرار دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب متعلقہ دستاویزات اور تصدیقی سرٹیفکیٹس کے اجرا کے حوالے سے مسائل کی نشاندہی ہوئی۔ اس پیش رفت نے حساس سیکیورٹی اداروں میں بھرتیوں کے طریقۂ کار، امیدواروں کے کوائف کی جانچ پڑتال اور انتظامی نگرانی پر بحث چھیڑ دی ہے۔

آٹھ سال تک تصدیقی سرٹیفکیٹس جاری نہ ہونے کا دعویٰ
رپورٹ میں نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ادارے نے تقریباً آٹھ سال تک متعلقہ تصدیقی سرٹیفکیٹس جاری نہیں کیے۔ اس کے باوجود اگر ان سرٹیفکیٹس کو بھرتی کے لیے لازمی دستاویز قرار دیا گیا تھا تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امیدواروں کی اہلیت کی تصدیق کس طریقۂ کار کے تحت کی گئی۔اس معاملے میں دستاویزات کی جانچ پڑتال اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کے نظام کی اہمیت بھی نمایاں ہوئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں میں بھرتی کے لیے تعلیمی قابلیت اور دیگر لازمی شرائط کی درست تصدیق ضروری سمجھی جاتی ہے۔

مودی کی جانب سے تقرری نامے تقسیم کرنے کا ذکر
رپورٹ کے مطابق متعلقہ اداروں سے تصدیق کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خود امیدواروں میں تقرری نامے تقسیم کیے تھے۔ تاہم، تصدیقی سرٹیفکیٹس سے متعلق سامنے آنے والے دعووں کے بعد بھرتی کے عمل اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے مراحل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔حساس سیکیورٹی اداروں میں بھرتی کے معاملات میں شفافیت اور احتساب اہم ہوتے ہیں، کیونکہ اہلکاروں کی اہلیت کی تصدیق ادارے کی کارکردگی اور اعتماد سے براہِ راست متعلق ہوتی ہے۔

بھرتی کے نظام کی شفافیت پر سوالات
اس معاملے نے اس بات پر بحث کو جنم دیا ہے کہ اگر لازمی دستاویزات بروقت دستیاب نہ ہوں تو امیدواروں کی اہلیت کی تصدیق کیسے کی جاتی ہے اور اس عمل کی نگرانی کون سا ادارہ کرتا ہے۔تاہم، صرف تصدیقی سرٹیفکیٹس کی عدم دستیابی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ تمام متعلقہ اہلکار نااہل ہیں یا ان کی بھرتیاں غیر قانونی تھیں۔ اس کے لیے سرکاری تحقیقات، متعلقہ دستاویزات اور حکام کے باضابطہ مؤقف کا سامنے آنا ضروری ہے۔