پاکستان امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے وزیر خزانہ

 ترسیلات زر کا حجم 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے،  پاکستان مشکل وقت میں  شراکت داروں کی معاونت اور مسلسل تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے
 حکومت طے شدہ اقتصادی اہداف کے حصول، محصولات میں اضافے  کیلئے کوششیں جاری رکھے گی : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹرسے ملاقات میں گفتگو
  بینکاک (یواین پی‘آئی این پی)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان امداد پر انحصار سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے اور خلیجی ممالک، امریکا، چین اور دیگر دیرینہ شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے، جاری مالی سال کے دوران ترسیلات زر کا حجم 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر چینل نیوز ایشیا کو انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت میں اپنے شراکت داروں کی معاونت اور مسلسل تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی پاکستان کی واضح سمت ہے، حکومت خلیجی ممالک سمیت تمام دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے۔دریں اثناء عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں استحکام اور اقتصادی جائزہ مکمل ہونے کے بعد سٹاف لیول معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، ملاقات بنکاک میں آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی۔ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحاتی اقدامات اور اقتصادی اہداف پر عملدرآمد کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف حکام کو ملکی معیشت کی تازہ صورتحال اور مقررہ اہداف کے حصول کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔ملاقات کے دوران آئی ایم ایف کی سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان معاشی استحکام کے ساتھ پائیدار ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کیلئے قرض پروگرام کی شرائط پر موثر عملدرآمد یقینی بنائے، انہوں نے بجٹ میں مقرر کردہ محصولات کے اہداف حاصل کرنے اور معاشی اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیاوزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف حکام کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت طے شدہ اقتصادی اہداف کے حصول، محصولات میں اضافے اور قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔