بیروت: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان میں علی الطاہر کی پہاڑی کے قریب آنے والے افراد کو ’ختم‘ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج اس اہم اسٹریٹجک علاقے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے علاقے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ہلاک جبکہ اس کے زیرِ زمین انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل حزب اللہ یا کسی بھی دوسرے گروہ کو علاقے میں دوبارہ موجودگی قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔علی الطاہر کی پہاڑی جنوبی لبنان کا اہم اسٹریٹجک مقام ہے، جہاں سے نبطیہ سمیت وسیع علاقے کی نگرانی ممکن ہے۔ اسرائیل نے حالیہ کارروائی کے بعد یہاں اپنا ’آپریشنل کنٹرول‘ قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق پہاڑی کے نیچے حزب اللہ کا دو کلومیٹر سے زائد طویل زیرِ زمین نیٹ ورک موجود تھا، جس میں کمانڈ مراکز، ہتھیاروں کے ذخائر اور دیگر فوجی تنصیبات شامل تھیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ انفرااسٹرکچر تباہ کردیا گیا ہے۔
اسرائیل کے مطابق علی الطاہر کی پہاڑی اس کے خود ساختہ ’سکیورٹی زون‘ کا حصہ ہے، تاہم لبنان اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں موجودگی پر مسلسل اعتراض کرتا رہا ہے۔ جون میں طے پانے والے جنگ بندی فریم ورک میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور لبنانی فوج کی تعیناتی کی بات کی گئی تھی، تاہم اس عمل میں پیش رفت رک گئی ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور علی الطاہر کا علاقہ دونوں فریقوں کے درمیان تنازع کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔