شجاع آباد کی بستیاں ڈوب گئیں ، چناب کے حفاظتی بند میں شگاف پْر کرنے کی کوشش،3 مزدور ریلے میں بہہ گئے ،سیلاب سندھ داخل
سپر بند میں80فٹ چوڑا شگاف،پانی شہر کی جانب بڑھنے لگا، 5 افرادریلوں کی نذر، علی پور میں بیٹے کو بچاتے باپ ڈوب گیا
پنجاب میں 44لاکھ98 ہزار لوگ متاثر،کشمور سے نقل مکانی جاری، دادو کے مکینوں کا انخلاء سے انکار، سیلاب سندھ میں داخل
لاہور،ملتان ،بہاولپور، مظفر گڑھ ،کراچی (خصوصی رپورٹ )ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں دریائے چناب کا سپر بند ٹوٹ گیا،پانی شہر کی طرف بڑھنے لگا ،کئی بستیاں ڈوب گئیں، سپر بند میں 80 فٹ چوڑا شگاف پْر کرنے کی کوشش کے دوران 3مزدور ریلے میں بہہ گئے، 2کو بچا لیا گیا، تیسرے کی تلاش جاری، ،دیگر مقامات پر بھی 5 افرادریلوں کی نذر، علی پور میں بیٹے کو بچاتے باپ ڈوب گیا، پنجاب میں سیلاب سے ابتک جاں بحق افراد کی تعداد 97ہو چکی،مجموعی طور پر 44لاکھ98 ہزار لوگ متاثر ہوئے۔ادھر سیلابی ریلے پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد سندھ داخل،ہیڈ پنجند سے بڑا ریلا کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ،اوچ شریف میں پنجند پر رات گئے پانی کا بہا ئو 7 لاکھ کیوسک سے تجاوز،متعدد بستیاں زیر آب،زمینی رابطہ منقطع ، پاک فوج اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے میں مصروف جبکہ پاکستان اور بھارت کے ڈیمز میں بھی پانی کی سطح تشویشناک حد تک بلند ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب کی تحصیل جلالپور پیر والا میں سیلابی صورتحال برقرار ہے جبکہ شجاع آباد میں موضع دھوندو کے قریب دریا چناب کے حفاظتی بند میں ایک بار پھر شگاف پڑ گیا،80 فٹ چوڑے شگاف کو پر کرنے کی کوشش میں 3 مزدور ریلے میں بہہ گئے ، ریسکیو ٹیم نے 2 مزدوروں کو بچا لیا ایک کی تلاش جاری ہے، بند ٹوٹنے سے بستی مٹھو ، سومن اور بستی بنگالا سمیت دیگر علاقے زیر آب آگئے، چناب کا پانی 138 بستیاں بہا لے گیا۔ جبکہ منچن آباد کے نواحی علاقے لالیکا کے قریب بستی مموکا میں کشتی الٹنے کے باعث ڈوب کر لاپتہ ہونے والے 2 نوجوانوں کی لاشیں مل گئی ہیں۔بہاولنگر کے دیہات سنتیکا، یاسین کا، موضع عاکوکا ہٹھاڑاور سہوکا کا سیلاب کی وجہ سے شہر سے زمینی راستہ منقطع ہو گیا، متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ بھی سیلاب کی زد میں ہے، 100 سے زائد گائوں ڈوب چکے ۔کہروڑپکا میں ستلج کے سیلابی ریلے نے دریائی پٹی کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جھوک آہیر کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، پانی بستیوں میں داخل ہونے سے گھر ڈوب گئے ، ریسکیو ٹیموں نے پانی میں گھرے مزید 500 افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا۔جلال پورپیروالہ میں دریائے چناب اور دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں کی تباہ کاریاں جاری ہیں ، بیٹ واہی اور نوراجہ بھٹہ کے دو مزید حفاظتی بند ٹوٹ گئے، کئی علاقے زیرآب آگئے ،سیلابی ریلہ موٹر وے سے ٹکرا گیا اوررائے نگر کے قریب وہاڑی پل کمزور ہونے کے لودھراں بہاولپور روڈ ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ دو روز قبل ٹوٹنے والے بستی بہاراں بند کے شگاف سے نکلنے والے سیلابی ریلے نے تباہی مچارکھی ہے۔ جبکہ شہر کے حفاظتی بند پر سیلابی ریلے کا لیول اونچے درجے پر جوں کی تو ں موجود ہے.7 لاکھ کے سیلابی ریلے نے8 روز سے تحصیل بھرکے 80 سے زائد مواضعات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔دوسر ی جانب مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے خیر سادات میں سیلابی پانی پر کٹ لگانے پر جھگڑا ہوگیا، فریقین کی جانب سے ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں پانی چھوڑنے کی کوشش پر جھگڑا ہوا۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگ زیب مسلسل تیسرے روز ملتان کی تحصیلوں شجاع آباد اور جلالپور پیر والا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں موجود رہیں ،ان کے ہمراہ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، صوبائی وزیر کاظم علی پیرزادہ اور رانا سکندر حیات نے بھی متاثرہ علاقوں کے دورے کئے، گزشتہ روز مریم اورنگزیب نے شجاع آباد بائی پاس اور گردیز نالے کا دورہ کیا اور سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر مشینری کے ذریعے بند کو مضبوط اور بہتر بنانے کے کام کا آغاز کر دیا گیا ،انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری طور پر ملحقہ آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں جلالپور پیر والا کے نواحی گائوں 86 ایم میں ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا۔ سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر متاثرہ گھروں کے مکینوں کی حفاظت اور ان کے نقصانات کے ازالے کے لیے حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ریسکیو و ریلیف آپریشن کے دوران کمشنر ملتان ڈویڑن عامر کریم خاں اور رکن صوبائی اسمبلی رانا اعجاز نون بھی موجود تھے۔ادھر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ نے جھانگی والا میں قائم نئے فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اوراپنی نگرانی میں متاثرینِ سیلاب میں کھانا بھی تقسیم کیا۔ جبکہ سپیشل سیکرٹری محکمہ آبپاشی جنوبی پنجاب کنور اعجاز خالق رزاقی نے پنجند ہیڈورکس کا دورہ کیا،متعلقہ افسران سے بریفنگ لی۔ ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق نے باقرپور، فتو والی، بیٹ احمد موضع بختیاری اور بلہ جھلن اوچشریف میں قائم فلڈ ریلیف کیمپس کا دورہ کیا اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے بلہ جھلن میں قائم فلڈ ریلیف کیمپ میں مقیم بچوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے فراہم کردہ تحائف تقسیم کئے ۔ ڈپٹی کمشنرمظفرگڑھ عثمان طاہر جپہ نے کہا ہے کہ ضلع بھر کے2 لاکھ 50 ہزار 905افراد متاثر ہوئے،2 لاکھ ایکڑ سے زیادہ زرعی رقبہ زیر آب آ چکا ، دریائے چناب کے متاثرین سیلاب کے 26 ریلیف کیمپوں میں 21 ہزار 212 افراد مقیم ہیں۔علی پور میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب سے مزید کئی بستیاں زیر آب آگئیں، سیلاب میں ریلے سے بیٹے کو بچاتے ہوئے باپ خود ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔اوچ شریف کے موضع بختیاری میں مقامی رہائشی 30 سالہ محمد اختر مویشی منتقل کرنے کے دوران پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا، اس کی لاش برآمد کر لی گئی جبکہ چشتیاں میں چک دلہ بھڈیرا کے قریب 38 سالہ نوجوان محمد حسین ٹائیر کی ٹیوب پر بیٹھ کر قریبی بستی جا رہا تھا اورپانی کے تیز بہائو کے نتیجہ میں ٹیوب نیچے سے پھسل گئی اور وہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا ،اس کی تلاش جاری ہے۔ لودھراں کے نواحی علاقے آدم واہن میں 14 سالہ لڑکا عبدالرحمن ٹریکٹر کی ٹیوب پر تیر کر دریا عبور کرنے کی کوشش میں دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا، ریسکیو اہلکاروں اور مقامی غوطہ خوروں نے چار گھنٹے کے ریسکیو آپریشن کے بعد لاش پانی سے نکال کر ورثا کے حوالے کردی ۔ جبکہ نوشہروفیروز میں کمال ڈیرو کے قریب 7 سالہ بچی پائوں پھسلنے سے دریائے سندھ میں گر کر ڈوب گئی، مقامی افراد اور ریسکیو ٹیموں نے پانی سے لاش نکال لی۔علاوہ ازیں فلڈ متاثرہ درجن بھر سے زائد بستیوں کی بجلی میپکو نے حفاظتی اقدامات کے پیش نظر منقطع کر دی ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے سیلاب کے باعث نقصانات کی رپورٹ جاری کردی۔ریلیف کمشنرپنجاب کے مطابق حالیہ سیلاب کیدوران مختلف حادثات میں 97 شہری جاں بحق ،دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب سے 4500 سے زائد دیہات متاثر ہوئے ،چناب کے باعث مجموعی طورپر 2 ہزار 334 دیہات ،ستلج سے 672 اوردریائے راوی میں سیلاب سے ایک ہزار 482 دیہات متاثر ہوئے۔ریلیف کمشنر کی رپورٹ کے مطابق سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 44لاکھ98 ہزار لوگ متاثرہوئے، سیلاب میں پھنسے 24 لاکھ 51 ہزار افراد اور 19لاکھ ایک ہزارمویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ،متاثرہ اضلاع میں 396 ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔ بجلی کی بحالی پر پاور ڈویڑن نے 12 ستمبر تک کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لیسکو میں لاہور، اوکاڑہ، شٓخوپورہ، قصور اور ننکانہ کے 67 متاثرہ فیڈرز میں سے 62 مکمل اور 5 جزوی طور پر بحال، لیسکو کے 73ہزار734 متاثرہ صارفین میں سے 67ہزار578 صارفین کیلئے بجلی بحال کر دی ،فیسکو کے کے 81 متاثرہ فیڈرز میں سے 30 مکمل اور 50 جزوی ،میپکو کے 175 متاثرہ فیڈرز میں سے 6 مکمل اور 165 جزوی ،گیپکو کے 103 متاثرہ فیڈرز میں سے 96 فیڈرز مکمل اور 7 جزوی طور پر بحال کر دیئے گئے۔ادھر بہاولپور میں دریائے ستلج میں گذشتہ 10 روزسے پانی کی سطح 54 انچ مزید بڑھ گئی ،یکم ستمبرکو ایمپریس برج پر9 فٹ 4 انچ اور12 ستمبرکو13 فٹ4 انچ پانی جمع ہوچکا جس کے باعث پانی بہاولپورکی شہری حدودکوچھونے لگا۔ذرائع کے مطابق بہاول پورمیں 1988 کے سیلاب کے وقت ایمپریس برج پر13 فٹ کی گیج تک پانی تھا جبکہ اب سطح 13فٹ 4 انچ تک پہنچ چکی۔ادھر سیلابی ریلے پنجاب وسندھ کی سرحد پر دریائی پٹی میں تباہی مچانے لگے ہیں ، متعدد دیہات کے زمینی رابطے منقطع ہو گئے،ہزاروں ایکڑ پر فصلیں برباد ہو گئیں، کچے کے علاقے حیدر آباد،فیض آباد،بیٹ مغل،چاچڑاں شریف،موضع پہوڑاں کے ساتھ ساتھ بنوں دا ہٹ،نواز پور،بستی کورائی،حبیب کوٹ کچی خان محمد،بستی خالطی زیر آب آگئیں، دریائے سندھ کا پانی منچن بند کے ساتھ ٹکرا گیا ۔ متاثرین کے مطابق انتظامیہ سیلاب متاثرین کیلئے صرف کاغذی گھوڑے دوڑارہی ہے،عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ کشمور کے کچے کے علاقے سے رہائشیوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے جبکہ دادو کچے کے مکینوں نے علاقہ خالی کرنے سے انکار کردیا ،اوچ شریف کے کئی دیہات زیر آب آنے سے متاثرین کو سیلاب زدہ علاقوں سے سامان اور مویشی منتقل کرنے کے لیے دشواری کا سامنا ہے۔دریں اثناء فلڈ کنٹرول روم کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ پنجند سے بڑا سیلابی ریلا کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو رہا ہے جس کے سبب دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے ، کچے کے متاثرہ علاقوں سے ایک لاکھ 11 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے، ہزاروں ایکڑ فصلوں کا نقصان ہو چکا۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق تمام دریائوں کا سیلابی ریلا پنجاب کے آخری ضلع راجن پور سے صوبہ سندھ میں گڈو کے مقام پر داخل ہو رہا ہے، دریائے سندھ میں کوٹ مٹھن کے مقام پر پانی کا بہائو 7لاکھ کیوسک ہے۔ نوشہرو فیروز میں سیلابی صورتحال پیدا ہو چکی ،کئی بستیاں زیر آب آگئی ہیں۔پراونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل حکومت سندھ نے دریائوں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے جاری تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ پنجند میں آمد 6لاکھ84ہزار293 کیوسک پانی ریکارڈ،گڈو بیراج پر پانی کی آمد 5لاکھ17ہزار724 کیوسک ریکارڈ جبکہ اخراج 4لاکھ85ہزار272 کیوسک ،سکھر بیراج پر ان فلو 4لاکھ53ہزار140 کیوسک اور آئوٹ فلو 4لاکھ18ہزار810 کیوسک ، کوٹری بیراج پر آمد2لاکھ59ہزار504 کیوسک اور اخراج 2لاکھ54ہزار354 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کمشنر سکھر ڈویڑن عابد سلیم قریشی نے سکھر، خیرپور اور گھوٹکی اضلاع کی انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہیڈ پنجند پر سیلابی ریلا 7 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا، انتظامی افسران حفاظتی بندوں کی نگرانی اور گشت کے عمل مزید متحرک کریں، کچے کے لوگوں کو انخلاء پر آمادہ کرنے کے لیے ان سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ سیلاب کی دوسری لہر پنجند پہنچ چکی ، سیلاب کے پیش نظر تیاری مکمل ہے، مون سون چند دن میں ختم ہو جائے گا ۔ دریں اثناء پاکستان اور بھارت کے بڑے ڈیمز میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی۔ تربیلا ڈیم مکمل بھر گیا ، منگلا اور بھارتی ڈیمز بھی اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے قریب پہنچ گئے۔وزارتِ آبی وسائل کے مطابق دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم مکمل طور پر بھر چکا اور اس کی سطح 1550 فٹ تک پہنچ گئی ۔ دریائے جہلم کا منگلا ڈیم بھی 93 فیصد بھر چکا اور وہاں پانی کی سطح 1235 فٹ ریکارڈ کی گئی۔بھارت میں دریائے ستلج پر ہماچل پردیش کا بھاکرا ڈیم 88 فیصد، دریائے بیاس پر پونگ ڈیم 94 فیصد ، دریائے راوی پر تھین ڈیم 89 فیصد تک بھر گئے ۔ وزارتِ آبی وسائل کے مطابق یہ سطح اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے قریب پہنچ چکی جس پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔علاوہ ازیں حب ڈیم میں پانی کی سطح 338 فٹ تک پہنچ گئی، حب ندی کے کنارے رہائشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی گئی۔محکمہ آبپاشی کے مطابق حب ڈیم میں پانی کی ایک فٹ گنجائش باقی رہ گئی ۔