دہشت گردی کے ثبوت مانگنے پر سہیل آفریدی کو افغانستان کا سفیر ہونا چاہیے، گورنر کے پی

دہشت گردی کے ثبوت مانگنے پر سہیل آفریدی کو افغانستان کا سفیر ہونا چاہیے، گورنر کے پی

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کے تازہ بیانات اور خیالات پر مبنی ہے، جن میں انہوں نے صوبے کی صورتحال، دہشت گردی، سیاسی حالات، اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

امن و امان اور دہشت گردی کا مسئلہ:
گورنر نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے ضم اور بندوبستی اضلاع میں دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور پولیس و سیکیورٹی فورسز اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے پیچھے افغانستان سرزمین کا استعمال ہونے کے ثبوت فراہم کیے جائیں، کیونکہ عالمی سطح پر بھی یہی بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کے عناصر پاکستان کے اندر سرگرم ہیں۔
افغانستان اور ٹی ٹی پی:
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت افغانستان اور ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنے صوبے میں امن کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے سینیٹر سہیل آفریدی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس حکومت سے ثبوت ہیں تو انہیں افغانستان کا سفیر یا مستقل مندوب ہونا چاہیے تاکہ وہ ثبوت عالمی سطح پر پیش کر سکیں۔
نقل مکانی اور آئی ڈی پیز:
انہوں نے ضلع خیبر سے لوگوں کی نقل مکانی کا ذکر کیا اور کہا کہ حکومت کو فوری طور پر اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
وفاقی حکومت کے اقدامات:
گورنر نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ خیبرپختونخوا آئیں اور یہاں ترقیاتی منصوبے شروع کریں، جیسے لیپ ٹاپ کی تقسیم اور اسکولوں کے افتتاح، تاکہ وفاقی حکومت کے ساتھ عوام کا اعتماد بڑھ سکے۔ انہوں نے کرکٹ کے اسٹیڈیمز کی بہتری اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی زور دیا۔
سیاست اور سیاسی جماعتیں:
انہوں نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت انتشار پھیلانے والی سیاست کرتی ہے، اور اس کے پاس کوئی قیادت یا بے داغ شخصیت نہیں ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ دو مختلف جماعتیں بنائیں: ایک سیاسی اور دوسری انتشاری۔
سندھ کے ساتھ تعلقات اور سیکورٹی:
گورنر نے بتایا کہ سندھ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو سیکیورٹی فراہم کی گئی، اور کراچی میں ان کے روٹ میں کوئی رکاوٹ یا مسئلہ پیش نہیں آیا۔ تاہم، انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب وزیراعلیٰ نے اپنا روٹ تبدیل کیا، تو سندھ حکومت پر الزام لگایا گیا۔
پولیس اور فورسز کی حالت:
انہوں نے کہا کہ پولیس بہادر ہے مگر حکومت نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بڑھانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ جدید ہتھیار، بلٹ پروف گاڑیاں، اور دیگر ضروریات ابھی تک پوری نہیں ہوئی ہیں۔مجموعی طور پر، گورنر نے امن، سیاست، اور صوبے کے مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سنجیدگی سے کام کرے، نقل مکانی کرنے والوں کے لیے اقدامات کرے، اور صوبے کے عوام کا اعتماد جیتنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔