غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے برقرار رہنے یا ختم ہونے سے متعلق غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی دھمکیاں، جنگ کے بادل منڈلانے لگے
عرب میڈیا کے مطابق، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حماس کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد خطے میں ایک بار پھر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیلی قیادت حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کو جواز بنا کر نئی جنگ کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت
اسرائیلی فوج پہلے ہی غزہ میں موجود ہے، لیکن اب مزید ریزرو فوجیوں کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، غزہ پر وحشیانہ بمباری اور زمینی کارروائی کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کی اشتعال انگیز بیان
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ حماس کو جنگ بندی کا فائدہ اُٹھانے کا موقع نہ دے اور دوبارہ جنگ شروع کرے۔ اس بیان نے حالات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔
جنگ بندی معاہدہ اور اس کے اثرات
یاد رہے کہ 19 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد 15 ماہ سے جاری جنگ میں عارضی وقفہ آیا تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں غزہ کے شہریوں نے کچھ سکھ کا سانس لیا تھا، اور بے گھر افراد نے اپنے تباہ حال گھروں میں واپسی شروع کر دی تھی۔
15 ماہ کی جنگ میں 48 ہزار سے زائد فلسطینی شہید
واضح رہے کہ 15 ماہ سے جاری جنگ کے دوران اب تک 48 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ اگر جنگ بندی معاہدہ ختم ہوتا ہے، تو غزہ ایک بار پھر شدید تباہی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔