’’احتجاج جائیں بھاڑ میں‘‘ بجلی کمپنیوں کیساتھ نئے30اور40سالہ معاہدے

جامشورو کول  پاور پلانٹ کے ساتھ 30سال ‘نیوکلئیر توانائی پر چلنے والے دو پاور پلانٹس کیساتھ 26 جون 2025 کو 40 سالہ معاہدے کئے گئے
 کوٹ ادو پاور پلانٹ کے ساتھ 3 سال کیلئے معاہد ہ کیا گیا‘ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے 2050 کے بعد بھی مؤثر رہیں گے:پارلیمنٹ میں تفصیلات پیش
اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت نے گزشتہ سال 4 آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کرلیے۔حکومت کی جانب سے ایک طرف آئی پی پیز سے جان چھڑانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف تقریباً نصف صدی پر مشتمل نئے طویل المعیاد معاہدے بھی کیے جا رہے ہیں۔ وزارت توانائی کی دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے 2025 میں چار آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کیے ہیں۔دستاویزات کے مطابق حکومت نے جامشورو کول نامی پاور پلانٹ کے ساتھ 30 جولائی 2025 کو تیس سالہ معاہدہ کیا۔ اسی طرح نیوکلئیر توانائی پر چلنے والے دو پاور پلانٹس کے ساتھ 26 جون 2025 کو چالیس چالیس سالہ معاہدے کیے گئے۔ اس کے علاوہ کوٹ ادو پاور پلانٹ کے ساتھ 3 جون 2025 کو تین سالہ معاہدہ بھی طے پایا۔وزارت توانائی کی دستاویزات سے مزید انکشاف ہوا ہے کہ کانپ-2 اور کانپ-3 نامی پاور پلانٹس کے ساتھ پاور ڈویژن کے معاہدے 2055 میں ختم ہوں گے جبکہ  متعدد آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے 2050 کے بعد بھی مؤثر رہیں گے۔دستاویزات کے مطابق اس وقت کل 105 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے نافذ العمل ہیں۔ ان میں سے بیشتر کی مدت ابھی 20 سال سے زائد باقی ہے۔آئی پی پیز کے ساتھ ان معاہدوں کی تفصیلات وزارت توانائی کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ہیں۔