شہر بھر کی مختلف کاروباری تنظیموں اور تجارتی حلقوں کے نمائندوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور آئندہ وفاقی بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔
اجلاس میں کاروباری برادری نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر آئندہ بجٹ کو حقیقی معنوں میں کاروبار دوست بنایا جانا ضروری ہے تاکہ صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں کو درپیش مشکلات کم کی جا سکیں۔تاجروں اور صنعتکاروں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کاروباری لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مقامی صنعتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق بجلی، گیس، ٹیکسوں اور خام مال کی قیمتوں میں اضافہ کاروباری سرگرمیوں کی رفتار کو متاثر کر رہا ہے۔کاروباری رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی بجٹ میں صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے آسان قرضوں اور ٹیکس ریلیف کی پالیسی اپنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کریں تو نہ صرف معاشی استحکام ممکن ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ بجٹ میں کاروبار دوست اصلاحات کو ترجیح دی جائے گی تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط کیا جا سکے۔