پاکستان دوئواں کیلئے بھارت پر انحصار کم کرے: ڈبلیو ایچ او

ڈبلیوایچ او سے صرف 4پاکستانی دوائیں منظور شدہ ، ایچ آئی وی اور ٹی بی کی دوائیں خود بنانا ہوں گی،عالمی ادارہ
 ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی جلد ایچ آئی وی، ٹی بی اور ملیریا کی دوا کیلئے کمپنیوں سے درخواستیں لے گی،وفاقی حکام
جنیوا (آئی این پی )اعالمی اداروں نے ٹی بی اور ایچ آئی وی کی دوائوں کیلئے بھارت پر انحصار کم کرنے کا مطالبہ کردیا۔عالمی ادارہ صحت اور یو این ایڈز نے پاکستان سے دوائیں مقامی طور پر تیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ڈبلیو ایچ او اور یو این ایڈز کے مطابق پاکستان میں تقریباً ساڑھے 3لاکھ ایچ آئی وی مریض ہیں، ہرسال 6لاکھ نئے ٹی بی کے مریض آتے ہیں لیکن  دوا صرف 5ہزار لیتے ہیں۔میڈیارپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او اور یو این ایڈز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقامی دوا کی تیاری نہ ہونے کے برابر ہے لہٰذا پاکستان کو ایچ آئی وی اور ٹی بی کی دوائیں خود بنانا ہوں گی۔عالمی اداروں نے مقامی فارما کمپنیوں کو ڈبلیو ایچ او سے منظور شدہ ادویات بنانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں پاکستانی دوائوں میں سے ڈبلیوایچ او سے صرف 4پاکستانی دوائیں منظور شدہ ہیں۔دوسری جانب وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ مقامی دوا ساز کمپنیوں کی عالمی معیار کی منظوری لینے میں دلچسپی کم ہے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی جلد ایچ آئی وی، ٹی بی اور ملیریا کی دوا کیلئے کمپنیوں سے درخواستیں لے گی۔