وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پشاور رنگ روڈ کے مِسنگ لنک "ناصر باغ روڈ" کی تعمیر 8 ماہ میں مکمل کریں گے اور اس منصوبے کو 2035 تک نہیں لے جایا جائے گا۔
پشاور میں منصوبے کے افتتاح کے موقع پر صوبائی وزراء مینا خان، ارشد ایوب، اور معاون خصوصی عاصم بھی ان کے ہمراہ تھے۔
اہم نکات:
50 ارب روپے کا "اے ڈی پی پلس" دیا جائے گا۔ہر تحصیل میں آر ایچ سیز (رورل ہیلتھ سینٹرز) بنائے جائیں گے۔ضلع بنانے کے ساتھ سہولیات دینا بھی ضروری ہے، صرف اعلان کافی نہیں۔دل کے امراض کے لیے پورے صوبے میں صرف ایک اسپتال ہونا ناکافی ہے، اصلاحات کی جائیں گی۔انہوں نے پرانے ادوار کے نمائندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: "جنہوں نے اپنے ضلع میں کالج نہ بنوایا ہو، انہیں جوتے مارنے چاہییں۔"
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا:"ہم عوام کو سہولتیں دے کر حقیقی ترقی دکھائیں گے، جو کام 2013 میں شروع ہوا، وہ آج بھی مکمل نہیں ہوا۔ ہم اسے مکمل کریں گے۔ ملاوٹ سے لوگ مر رہے ہیں، یہ ایک بڑا المیہ ہے، ہمیں اللہ کو جواب دینا ہے۔"آخر میں وزیراعلیٰ نے گورنر کے ساتھ ملاقات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے، اور ان کے تمام اقدامات شفاف ہیں۔