اداکار کو فلسطین کی حمایت مہنگی پڑگئی، فلم انڈسٹری میں کام ملنا بند

اداکار کو فلسطین کی حمایت مہنگی پڑگئی، فلم انڈسٹری میں کام ملنا بند

 ہالی ووڈ کے معروف آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار، نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کے بعد انہیں فلمی دنیا میں مشکلات اور پیشہ ورانہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ کئی بڑے منصوبے اور برانڈ معاہدے ان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں، کیونکہ مختلف حلقوں نے ان کے سیاسی مؤقف کو وجہ قرار دیا ہے۔بارڈیم کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال سے زیادہ پریشان نہیں کیونکہ ان کی زندگی اور کام صرف امریکی فلمی صنعت تک محدود نہیں ہیں۔ وہ اسپین میں رہتے ہیں اور دنیا بھر میں مختلف مواقع موجود ہیں، اس لیے وہ اپنے مؤقف پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے ہالی ووڈ کی سینئر اداکارہ سوزن سرانڈن کا بھی ذکر کیا، جنہیں فلسطین کے حق میں احتجاج کے بعد شدید تنقید اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارڈیم کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نظام کی خرابی کو ظاہر کرتی ہے، جہاں سیاسی آراء رکھنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض حلقوں نے انہیں غیر اعلانیہ طور پر ’بلیک لسٹ‘ کرنے کی کوشش کی، مگر اب حالات بدل رہے ہیں اور کئی نئے فلم ساز اور تخلیق کار انہیں اپنے منصوبوں میں شامل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے اکیڈمی ایوارڈز 2026 میں فلسطین کے حق میں واضح مؤقف اپنایا، کوٹ پر فلسطینی پرچم لگایا اور اسٹیج پر ’’فلسطین آزاد کرو‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اس عمل پر تالیوں کی گونج سننا ان کے لیے حوصلہ افزا تھا، کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ فلمی برادری میں فلسطین کے لیے ہمدردی موجود ہے، اگرچہ بہت سے لوگ کھل کر بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، اداکارہ میلیسا بریرا کو بھی فلسطین سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس کے بعد فلم سیریز ’اسکریم 7‘ سے نکال دیا گیا، جس سے ہالی ووڈ میں سیاسی اور سماجی مؤقف کے حوالے سے بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔