پاکستان کے معروف اداکار عمران عباس نے بھارتی فلم انڈسٹری میں کام کے دوران زبان اور تلفظ کے فرق سے متعلق اپنے دلچسپ تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردو کے اصل لہجے کو برقرار رکھنا کئی مواقع پر ان کے لیے ایک چیلنج بن گیا تھا۔
ایک حالیہ گفتگو میں عمران عباس نے بتایا کہ بھارتی شوبز انڈسٹری میں اردو الفاظ کی ادائیگی پاکستانی انداز سے خاصی مختلف ہوتی ہے، خصوصاً حرف "خ" اور دیگر صوتی حروف کے تلفظ میں واضح فرق محسوس کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی فنکار اکثر اردو الفاظ کو ہندی آمیز انداز میں ادا کرتے ہیں، جس سے زبان کی اصل نزاکت اور حسن متاثر ہوتا ہے۔عمران عباس، جو بھارتی فلموں جانیثار اور اے دل ہے مشکل میں بھی کام کر چکے ہیں، نے بتایا کہ شوٹنگ کے دوران بعض مواقع پر انہیں اپنے تلفظ میں تبدیلی کا مشورہ دیا گیا، تاہم انہوں نے اردو کے اصل لب و لہجے کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔ ان کی بالی ووڈ میں موجودگی اور ان فلموں میں شرکت ریکارڈ کا حصہ ہے۔
اداکار کے مطابق فلمی مکالموں میں بعض عام الفاظ، حتیٰ کہ "بیوقوف" جیسی روزمرہ اصطلاحات کی ادائیگی میں بھی فرق سامنے آتا تھا، مگر وہ اسے دو مختلف تہذیبی اور لسانی پس منظر کا مظہر سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان کا یہ تنوع اپنی جگہ دلچسپ ہے، تاہم اردو کے کلاسیکی تلفظ کی حفاظت بھی ضروری ہے۔عمران عباس نے اس بات پر زور دیا کہ فنکار جب سرحد پار کام کرتے ہیں تو صرف اداکاری ہی نہیں بلکہ زبان، آہنگ اور ثقافتی شناخت کی نمائندگی بھی ان کے ساتھ چلتی ہے، اس لیے انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ اپنی اردو کی اصل مٹھاس کو برقرار رکھیں۔