15 دن میں ڈیزل 69.74، پٹرول 25.32 روپے مہنگا

 اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وفاقی کابینہ کے 17 جولائی کے فیصلے کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ تعین کا نظام نافذ ہونے کے بعد صرف پندرہ دن میں ڈیزل 69 روپے 74 پیسے فی لٹر اور پٹرول 25 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو چکا ہے۔ اس دوران ڈیزل میں صرف ایک بار 66 پیسے فی لٹر جبکہ پٹرول میں تین مرتبہ معمولی کمی کی گئی تاہم مجموعی طور پر قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیاجس کے باعث ٹرانسپورٹ، زراعت، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور دیگر شعبوں پر لاگت کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔17 جولائی کو وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ اوگرا عالمی منڈی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں پانچ دن روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی۔ اس فیصلے پر 17 جولائی سے عمل درآمد شروع ہوا۔17 جولائی سے اب تک ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 69 روپے 74 پیسے فی لٹر اضافہ کیا جا چکا ہے جبکہ پٹرول 25 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہوا۔ اس دوران صرف ایک بار دونوں مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھی گئیں۔ ڈیزل کی قیمت میں صرف ایک مرتبہ 66 پیسے فی لٹر کمی کی گئی جبکہ پٹرول کی قیمت میں 35 پیسے، ایک روپیہ اور 12 پیسے فی لٹر کمی کی گئی۔17 جولائی کو ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لٹر اضافہ کرکے اسے 354 روپے 35 پیسے فی لٹر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں 20 جولائی کو 5 روپے 71 پیسے فی لٹر، 21 جولائی کو 7 روپے 15 پیسے فی لٹر، 22 جولائی کو 7 روپے 83 پیسے فی لٹر، 23 جولائی کو 3 روپے 62 پیسے فی لٹر، 24 جولائی کو 4 روپے 80 پیسے فی لٹر، 27 جولائی کو 3 روپے 37 پیسے فی لٹر، 28 جولائی کو 1 روپیہ 55 پیسے فی لٹر، 29 جولائی کو 2 روپے 24 پیسے فی لٹر اور 30 جولائی کو 2 روپے 42 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔ 31 جولائی کو 66 پیسے فی لٹر کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 392 روپے 38 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی۔اسی عرصے میں پٹرول کی قیمت بھی روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی رہی۔ 17 جولائی کو 5 روپے 44 پیسے فی لٹر اضافے کے بعد قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی۔ 20 جولائی کو 35 پیسے فی لٹر کمی، 21 جولائی کو 4 روپے 93 پیسے فی لٹر اضافہ، 22 جولائی کو 6 روپے 39 پیسے فی لٹر اضافہ، 23 جولائی کو 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ، 24 جولائی کو 3 روپے 66 پیسے فی لٹر اضافہ، 27 جولائی کو ایک روپیہ فی لٹر کمی، 28 جولائی کو 1 روپیہ 63 پیسے فی لٹر اضافہ، 29 جولائی کو 75 پیسے فی لٹر کمی، 30 جولائی کو 1 روپیہ 9 پیسے فی لٹر اضافہ اور 31 جولائی کو 12 پیسے فی لٹر کمی کے بعد پٹرول کی قیمت 336 روپے 3 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی۔یوں 17 سے 31 جولائی کے دوران یومیہ قیمتوں کے تعین کے نظام میں پٹرولیم مصنوعات، خصوصاً ڈیزل مسلسل مہنگا رہا۔ یکم سے 3 اگست تک بھی قیمتوں کا روزانہ تعین جاری رہا تاہم صارفین کو صرف معمولی ریلیف ملا۔ آج 3 سے 7 اگست کے لیے دوبارہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کیا جائے گا جس کے بعد واضح ہوگا کہ رواں ہفتے صارفین کو حقیقی ریلیف ملتا ہے یا گزشتہ پندرہ دنوں کی طرح قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔