گھوڑی پال زمینیں

شہزاد حسین بھٹی
پنجاب میں ان دنوں گھوڑی پال زمینوں کی واپسی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث ہے۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت پنجاب نے سرکاری زمینوں کو واپس لینے اور انہیں زرعی مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی پس منظر، سرکاری پالیسیوں، زمینوں کی الاٹمنٹ، وراثتی حقوق اور قبضوں کی پیچیدہ کہانی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ گھوڑی پال زمینیں ہیں کیا اور اب حکومت انہیں واپس کیوں لینا چاہتی ہے؟

گھوڑی پال کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک ایسی زمین کا تصور ابھرتا ہے جہاں گھوڑیوں کی افزائشِ نسل اور گھوڑوں کی پرورش کا انتظام کیا جاتا ہو۔ درحقیقت اس اصطلاح کا تعلق برطانوی دورِ حکومت سے ہے۔ اس زمانے میں گھوڑے فوجی ضروریات، نقل و حمل اور انتظامی امور میں غیر معمولی اہمیت رکھتے تھے۔ برطانوی حکومت کو فوج کے لیے معیاری نسل کے گھوڑوں اور خچروں کی ضرورت رہتی تھی۔ اسی ضرورت کے تحت گھوڑوں کی افزائشِ نسل کے لیے زمینیں مخصوص کرنے اور انہیں متعلقہ افراد کو شرائط کے تحت دینے کا انتظام کیا گیا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق یکم جولائی 1942ء￿  کے ایک نوٹیفکیشن کے تحت پنجاب میں گھوڑی پال اسکیم کے لیے زمینوں کا انتظام کیا گیا۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد گھوڑوں اور خچروں کی افزائشِ نسل کو فروغ دینا تھا۔ ان زمینوں کی الاٹمنٹ مخصوص شرائط کے تحت کی جاتی تھی۔ بعض صورتوں میں یہ الاٹمنٹ چھ سال کے لیے ہوتی تھی، جس میں شرائط کے مطابق توسیع بھی ممکن تھی۔ تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ زمین کی الاٹمنٹ اور اس کی مستقل ملکیت دو الگ قانونی حیثیتیں ہیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد بھی اس نوعیت کی زمینوں کا انتظام مختلف صورتوں میں جاری رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ گھوڑوں کی فوجی اہمیت اور افزائشِ نسل کے مقاصد میں تبدیلی آئی، لیکن زمینوں کا معاملہ اپنی جگہ موجود رہا۔ کہیں الاٹمنٹ ہولڈرز اور ان کے خاندان آباد رہے، کہیں زمینیں زیرِ کاشت آ گئیں اور بعض مقامات پر ان کی ملکیت، قبضے اور استعمال کے حوالے سے پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک انتظامی اسکیم رفتہ رفتہ قانونی اور سماجی مسئلہ بنتی چلی گئی۔

اب حکومت پنجاب کی جانب سے سرکاری زمینوں کو واپس لینے اور انہیں زرعی پیداوار کے لیے استعمال میں لانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اکتوبر 2026ء￿  میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو سرکاری زمینوں کے بہتر استعمال کے حوالے سے ہدایات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ ان میں گھوڑی پال اسکیم کے علاوہ نمبرداری نظام اور دیگر سرکاری زمینوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف اپنی جگہ، لیکن اس اقدام پر عمل درآمد سے پہلے ہر زمین کی قانونی حیثیت کا تعین ناگزیر ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گھوڑی پال اسکیم کے تحت الاٹ کی گئی تمام زمینیں سرکاری ملکیت ہیں؟ قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ایک تحریری جواب کے مطابق 1942ء￿  کے نوٹیفکیشن کے تحت اس اسکیم کی زمین صوبائی حکومت کی ملکیت تھی، جبکہ اسے جی ایچ کیو کے تصرف میں دیا گیا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ محض کئی دہائیوں سے کسی زمین پر قابض رہنے یا اس کی کاشت کرنے سے خودبخود مالکانہ حقوق پیدا نہیں ہو جاتے۔ تاہم ہر معاملے کا فیصلہ متعلقہ الاٹمنٹ، انتقالات، وراثتی دستاویزات اور دیگر قانونی ریکارڈ کی روشنی میں ہونا چاہیے۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی خاندان کو قانون کے مطابق زمین الاٹ ہوئی، اس کے بعد وراثتی حقوق پیدا ہوئے اور متعلقہ افراد طویل عرصے سے قانونی بنیادوں پر اس زمین کے حق دار ہیں تو محض سرکاری زمینوں کی واپسی کی عمومی پالیسی کے نام پر ان کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ اگست 2026ء￿  میں ساہیوال کے علاقے چک 93/9-L میں مرداں بی بی نامی خاتون کو گھوڑی پال اسکیم کے تحت وراثت میں ملنے والی زمین کا تیس سال بعد قبضہ دلوانے کا واقعہ بھی اس معاملے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مقدمات میں سرکاری زمین کی واپسی کے ساتھ قانونی ورثا کے حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔

حکومت اگر واقعی سرکاری زمینوں کو واپس لے کر انہیں زرعی پیداوار کے لیے استعمال میں لانا چاہتی ہے تو یہ عمل شفافیت اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ جہاں غیر قانونی قبضے ہیں وہاں کارروائی ضرور ہونی چاہیے، لیکن جہاں قانونی الاٹمنٹ، وراثت یا کسی عدالتی فیصلے کے تحت حقوق موجود ہیں وہاں ان کا احترام بھی لازم ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ کسی بھی کارروائی سے پہلے زمینوں کا مکمل سروے، ریونیو ریکارڈ کی جانچ اور الاٹمنٹ کی قانونی حیثیت واضح کرے۔ متاثرہ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور قانونی چارہ جوئی کا پورا موقع بھی ملنا چاہیے۔

اس تمام معاملے میں ضلع اٹک سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع کی صورت حال بھی سامنے آنی چاہیے۔ یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ اٹک میں گھوڑی پال اسکیم کے تحت کتنی زمین الاٹ ہوئی، اس وقت اس کا کتنا رقبہ زیرِ استعمال ہے، کتنی زمین سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے اور کتنی زمین کے بارے میں ملکیت یا قبضے کے تنازعات ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ مال کو چاہیے کہ اس حوالے سے مستند اعدادوشمار عوام کے سامنے لائیں تاکہ افواہوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر بات ہو سکے۔

زمین محض مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی، اس کے ساتھ تاریخ، خاندانوں کی یادیں، معاشی مفادات اور بعض اوقات کئی نسلوں کے حقوق وابستہ ہوتے ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ قومی اور سرکاری اثاثوں کا تحفظ کرے، لیکن اس کے ساتھ شہریوں کے جائز حقوق کی حفاظت بھی ریاست ہی کی ذمہ داری ہے۔ گھوڑی پال زمینوں کی واپسی کا معاملہ اسی وقت قابلِ قبول اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے جب اس میں قانون، شفافیت اور انصاف کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ ورنہ ایک مسئلے کے حل کی کوشش کسی دوسرے بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔