رفیع صحرائی
پاکستان میں انتخابات کا انعقاد کوئی نئی بات نہیں۔ ہر چند برس بعد انتخابات منعقد ہوتے ہیں، عوام پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کرتے ہیں، ووٹ ڈالتے ہیں، نتائج کا اعلان ہوتا ہے اور ایک جماعت حکومت جبکہ دوسری اپوزیشن بن جاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں انتخابی عمل کا سب سے اہم مرحلہ، یعنی عوام کے مینڈیٹ پر اجتماعی اعتماد، اکثر نتیجہ سامنے آنے کے بعد ہی متنازع ہو جاتا ہے۔ ہارنے والی جماعت انتخابی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ جیتنے والی جماعت اس اعتراض کو سیاسی مخالفت قرار دیتی ہے اور یوں انتخابات کے بعد شروع ہونے والی سیاسی کشمکش بعض اوقات اگلے انتخابات تک جاری رہتی ہے۔
اس اہم اور بنیادی مسئلے کے حل کے لیے انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کا قیام ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کو کمیٹی میں شمولیت کی باضابطہ دعوت بھی اس اعتبار سے خوش آئند ہے کہ انتخابی نظام کی اصلاح کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا معاملہ ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن واقعی ایسا انتخابی نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں جس پر تمام سیاسی جماعتیں اعتماد کر سکیں تو یہ پاکستان کے جمہوری سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے جانے والے تحفظات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بیرسٹر گوہر نے کمیٹی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی مساوی نمائندگی کا مطالبہ کیا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حکومت کے دس اور اپوزیشن کے صرف پانچ ارکان ہوں گے تو اپوزیشن کی تجاویز کثرتِ رائے سے مسترد کی جا سکتی ہیں۔ یہ اعتراض محض نشستوں کی تعداد کا مسئلہ نہیں بلکہ اعتماد کا مسئلہ ہے۔ اگر اصلاحات کا مقصد ہی تمام جماعتوں کو اعتماد دینا ہے تو اصلاحات کی میز پر بیٹھنے والی جماعتوں کے تحفظات بھی سنجیدگی سے سنے جانے چاہئیں۔
حکومت کے لیے شاید یہ زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ کمیٹی کو محض عددی اکثریت کے ذریعے فیصلے کرنے کا فورم بنانے کے بجائے اتفاقِ رائے کا فورم بنائے۔ انتخابی اصلاحات ایسی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے جسے حکومت اپنی اکثریت سے منظور کرا لے اور اگلی حکومت اسے دوبارہ تبدیل کر دے۔ اس طرح اصلاحات کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تقریباً ہر انتخاب کے بعد دھاندلی، انتخابی بے ضابطگی، نتائج میں تاخیر، فارموں کے معاملات، انتخابی فہرستوں، حلقہ بندیوں اور اداروں کی غیر جانب داری کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کبھی حکومت اپوزیشن پر الزام لگاتی ہے اور کبھی اپوزیشن حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انتخابات ختم ہونے کے باوجود سیاسی درجہ حرارت ختم نہیں ہوتا۔ یہ صورت حال کسی ایک جماعت کے لیے نہیں، پوری جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔
انتخابی اصلاحات کا اصل مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ووٹ ڈالنے کا عمل بہتر ہو جائے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ووٹ ڈالنے سے لے کر نتیجے کے اعلان تک ہر مرحلہ قابلِ اعتماد، شفاف اور قابلِ جانچ ہو۔ اس سلسلے میں انتخابی فہرستوں کی تیاری، حلقہ بندیوں کا طریقہ کار، پولنگ اسٹیشنوں کا قیام، انتخابی عملے کی تعیناتی، پولنگ ایجنٹوں کے حقوق، ووٹوں کی گنتی، نتائج کی ترسیل، فارموں کی دستیابی اور انتخابی شکایات کے بروقت ازالے تک پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ٹیکنالوجی بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ جہاں ممکن ہو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نتائج کی ترسیل اور ریکارڈ کو زیادہ محفوظ اور قابلِ تصدیق بنایا جا سکتا ہے، لیکن ٹیکنالوجی کو خود مسئلے کا حل سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ اصل ضرورت ایسا نظام بنانے کی ہے جس میں ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی نگرانی، شفافیت اور آڈٹ کا مؤثر انتظام بھی موجود ہو۔
ایک اور اہم مسئلہ انتخابی تنازعات کے فوری حل کا ہے۔ اگر کسی امیدوار یا سیاسی جماعت کو انتخابی نتیجے پر اعتراض ہو تو اسے برسوں عدالتوں اور اداروں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انتخابی عذر داریوں کے فیصلوں کے لیے مؤثر، تیز رفتار اور غیر جانب دار نظام ہونا چاہیے تاکہ انتخابی تنازعات سیاسی احتجاج اور سڑکوں کی کشمکش میں تبدیل نہ ہوں۔ عدالتی اسٹے آرڈرز کے ذریعے پورا ٹینیور نکالنے کی پریکٹس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ہر انتخابی عذرداری کا فیصلہ نوے روز کے اندر ہونا چاہیے۔
اسی طرح الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور غیر جانب داری پر عوام اور سیاسی جماعتوں کا اعتماد بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ الیکشن کمیشن کسی حکومت، اپوزیشن یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کا ادارہ نہیں بلکہ آئین اور عوام کے ووٹ کا محافظ ہے۔ اس کی انتظامی اور مالی خودمختاری، انتخابی عملے کی غیر جانب دارانہ تربیت اور انتخابی قوانین کا تمام جماعتوں پر یکساں اطلاق یقینی بنایا جانا چاہیے۔
لیکن یہاں سیاسی جماعتوں کی اپنی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر انتخابی اصلاحات کا مقصد شفاف انتخابات ہیں تو حکومت کو اپوزیشن کے ہر جائز اعتراض کو سیاسی دشمنی سمجھنے سے گریز کرنا ہوگا، جبکہ اپوزیشن کو بھی ہر انتخابی شکست کو دھاندلی قرار دینے کی روایت پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ جمہوریت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہماری جماعت جیتے تو انتخابات شفاف اور ہم ہاریں تو انتخابات مشکوک قرار پائیں۔ جمہوریت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کوئی جماعت اپنی شکست کو عوام کے فیصلے کے طور پر قبول کرنے کا حوصلہ دکھائے۔
اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کو ایک اور بنیادی سوال کا جواب بھی دینا ہوگا: کیا وہ ایسا انتخابی نظام بنانے کے لیے تیار ہیں جس میں مستقبل میں خود ان کے سیاسی مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہو؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر اصلاحات حقیقی معنوں میں قومی اصلاحات بن سکتی ہیں۔ لیکن اگر ہر جماعت اصلاحات کو اپنے آئندہ انتخابی فائدے کے ترازو میں تولے گی تو کوئی دیرپا نظام تشکیل نہیں پا سکے گا۔
انتخابی اصلاحات میں انتخابی اخراجات کا مسئلہ بھی شامل ہونا چاہیے۔ انتخابات میں دولت کا بے تحاشا استعمال، امیدواروں کے اخراجات، انتخابی مہم کی شفافیت اور سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کے معاملات پر مؤثر نگرانی ضروری ہے۔ اسی طرح خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور خصوصی ضرورت رکھنے والے شہریوں کے لیے ووٹ کے حق کے عملی استعمال میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ انتخابی قوانین میں بار بار ایسی تبدیلیاں نہ کی جائیں جو ہر نئی حکومت کے ساتھ سیاسی ضرورت کے مطابق تبدیل ہوتی رہیں۔ پاکستان کو ایک ایسا مستحکم انتخابی فریم ورک درکار ہے جو حکومتوں کے آنے جانے سے متاثر نہ ہو۔ انتخابی قوانین جتنے مستقل، واضح
اور متفقہ ہوں گے، انتخابی عمل اتنا ہی قابلِ اعتماد ہوگا۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کو کمیٹی میں شمولیت کی دعوت اس اعتبار سے ایک مثبت قدم ہے۔ اب اپوزیشن جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس دعوت کو محض سیاسی چال سمجھ کر مسترد کرنے کے بجائے کمیٹی میں بیٹھیں، اپنے تحفظات سامنے رکھیں اور اپنی تجاویز پیش کریں۔ اگر کسی جماعت کو کمیٹی کی تشکیل یا نمائندگی پر اعتراض ہے تو اس اعتراض کو بھی پارلیمانی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کو بھی بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسے صرف اپنی عددی اکثریت پر نہیں بلکہ اصلاحات کے وسیع تر اتفاقِ رائے پر یقین ہے۔ اگر حکومت اپوزیشن کی تجاویز میں سے اچھی تجاویز قبول کرتی ہے تو اس سے حکومت کمزور نہیں ہوگی بلکہ جمہوریت مضبوط ہوگی۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ آج کی حکومت کل اپوزیشن ہو سکتی ہے اور آج کی اپوزیشن کل حکومت۔ انتخابی نظام کسی ایک جماعت کے لیے نہیں بنایا جا سکتا۔ جو جماعت آج انتخابی نظام میں اپنے لیے سہولت چاہے گی، اسے کل اسی نظام کا سامنا اپوزیشن کی حیثیت سے کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کو ایسے انتخابات کی ضرورت ہے جن کے نتائج صرف الیکشن کمیشن کے اعلان سے نہیں بلکہ عوام اور سیاسی جماعتوں کے اعتماد سے بھی تسلیم کیے جائیں۔ ایسا نظام درکار ہے جہاں جیتنے والا بھی مطمئن ہو کہ اس کی کامیابی حقیقی عوامی مینڈیٹ ہے اور ہارنے والا بھی یہ تسلیم کرے کہ اسے شکست عوام کے فیصلے سے ہوئی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں یہ طے کریں کہ انہیں صرف اپنی جیت کے لیے انتخابات چاہئیں یا ملک میں جمہوریت کی جیت کے لیے شفاف انتخابات چاہئیں۔ پاکستان کا مستقبل دوسرے راستے سے وابستہ ہے۔