حملہ آور نے بال روم کے قریب بار کارٹس والے کمرے میں ہتھیار چھپائے
ملزم نے کسی بیگ یا کسی اور چیز سے ہتھیار کے پرزے نکالے؛ عینی شاہدین کی گفتگو
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) واشنگٹن میں وائٹ ہائوس کی تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے سے متعلق مزید انکشافات ہوئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے بال روم کے قریب کمرے میں ہتھیار چھپائے ہوئے تھے، اس مقصد کیلئے ملزم ٹیرس لیول کے داخلی راستے کے قریب واقع ایک کم نگرانی والے ایریا میں داخل ہوا جہاں ملزم نے اس کمرے میں ہتھیاروں کو جوڑا، جس جگہ ملزم موجود تھا وہ ایک عارضی کمرہ تھا، کمرے کیاطراف کوئی سکیورٹی نہیں تھی، کمرے میں بار کارٹس اور دیگر سامان رکھا گیا تھا۔چشم دید گواہ نے مزید بتایا کہ ملزم نے کسی بیگ یا کسی اور چیز سے ہتھیار کے پرزے نکالے، ملزم نے کمرے میں ہی ہتھیار کے پرزے جوڑے، ملزم سکیورٹی کی نظروں سے اوجھل ہو کرہتھیار تیار کرتا رہا، ملزم ہتھیار جوڑنے کے بعد اچانک بال روم کی سیڑھیوں کی طرف بھاگا، ملزم نے بال روم کے قریب پہنچ کر اندھادھند فائرنگ شروع کردی، فائرنگ شروع ہوتے ہی چیخ وپکار اوربھگدڑ مچ گئی، فائرنگ کے بعد سیکرٹ سروس اور دیگر مسلح اہلکار فوری طور پر پہنچ گئے۔بتایا جارہا ہے کہ وائٹ ہائوس کی تقریب پر حملہ آور شخص کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے جو کیلیفورنیا کا رہائشی ہے، ملزم کیلٹیک یونیورسٹی کا گریجویٹ اورپیشے کے لحاظ سے استاد ہے، ملزم کو دسمبر2024ء میں ٹیچرآف دی منتھ بھی قرار دیا گیا تھا، ملزم نے سیکرٹ سروس ایجنٹ پر فائرنگ کی مگر بلٹ پروف جیکٹ نے اس کی جان بچائی۔ بتایا گیا ہے کہ حملہ آور کول ٹامس ایلن شارٹ گن، پستول اور متعدد چاقوئوں سے لیس تھا، ملزم نے رات ساڑھے 8 بجے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملے کی کوشش کی، حملے کے وقت صدرٹرمپ بال روم میں تھے، جہاں سے ان کو بحفاظت نکال لیا گیا، جب فائرنگ ہوئی تو ٹرمپ کابینہ کے ارکان میز کے نیچے چھپ گئے، سکیورٹی فورسز نے ملزم کو زمین پر گرا کر قابو پایا، سکیورٹی ٹیمیں کیلیفورنیا میں حملہ آور کی رہائشگاہ پہنچ چکی ہیں، مزید تحقیقات جاری ہیں، ملزم کو پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔