شاہد شکیل
اللہ تعالیٰ نے انسان کو سوچنے اور اپنے حالات کا جائزہ لینے کی صلاحیت عطا کی ہے،یہی صلاحیت اُسے یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے اور کِس سمت میں آگے بڑھنا چاہئے، مگر جب روزمرہ کی مصروفیات حد سے بڑھ جائیں تو انسان کیلئے یہ عمل مشکل ہو جاتا ہے اور وہ صرف ایک ترتیب کے مطابق زندگی گزارنے لگتا ہے۔آج کا انسان ایک ایسی زندگی گزار رہا ہے جس میں رفتار سب سے نمایاں پہلو بن چکی ہے ،دن کا آغاز ایک مقصد کے ساتھ ہوتا ہے اور اُس کا اختتام بھی کسی نہ کسی ذمہ داری کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت تیزی سے گزر رہا ہو اور انسان اِس کے ساتھ قدم ملانے کی مسلسل کوشش میں مصروف ہو، یہی مصروفیت اب معمول بن چکی ہے اور اِسی کو جدید زندگی کی پہچان سمجھا جانے لگا ہے۔آج کے دور میں سہولتوں کی کمی نہیں،جدید ٹیکنالوجی نے زندگی کے بہت سے پہلو آسان بنا دئے ہیں ،رابطے کے ذرائع تیز ہو چکے ہیں ،فاصلے کم ہو گئے ہیں اور معلومات تک رسائی ہر وقت ممکن ہے ،یہ سب ترقی کی علامتیں ہیں اور اِن سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر اِس کے ساتھ ساتھ ایک پہلو بھی ہے جو خاموشی سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔یہ پہلو ہے ٹھہراؤ کا۔ ٹھہراؤ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی رفتار کو مکمل طور پر روک دے بلکہ اِس کا مطلب ہے کہ وہ کچھ لمحوں کے لئے رُک کر اپنے حالات کو دیکھے ،اپنے فیصلوں پر غور کرے اور اپنی سمت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے زندگی میں اعتدال کو بہت اہم قرار دیا ہے ،اگر اِس اصول کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی مصروفیات اور اپنے آرام کے درمیان ایک توازن قائم رکھے ،یہی توازن انسان کو ذہنی سکون دیتا ہے اور اُس کی زندگی کو بامقصد بناتا ہے۔دنیا کے مختلف معاشروں میں زندگی کے انداز بھی مختلف ہوتے ہیں ،کہیں رفتار زیادہ ہے ،کہیں سادگی نمایاں ہے اور کہیں دونوں کا امتزاج نظر آتا ہے،ہر جگہ انسان اپنے حالات کے مطابق زندگی گزار رہا ہے اور یہی تنوع اِس دنیا کی حقیقت ہے ،اِس لئے کسی ایک انداز کو مکمل طور پر درست یا غلط کہنا شاید مناسب نہیں ہوتا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مصروفیت کے ساتھ ساتھ انسان کے اندر سکون کی تلاش بھی بڑھتی ہے ، بظاہر سب کچھ موجود ہوتا ہے، مگر ایک خاموش سی کمی محسوس ہوتی ہے ،یہ کمی ہر شخص کے لئے مختلف ہو سکتی ہے مگر اِس کا احساس ایک عام تجربہ بن چکا ہے ،یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے معمولات میں کچھ ایسے لمحے شامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو اُسے ذہنی طور پر مضبوط بنائیں۔آج کے دور میں ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ انسان کے پاس سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، تعلیم،تجربہ اور مشاہدہ ،یہ سب ایسے ذرائع ہیں جو انسان کو اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں ،اصل بات یہ ہے کہ وہ اِن مواقع سے کس طرح فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی زندگی کو کِس انداز میں ترتیب دیتا ہے۔مصروف زندگی میں چھوٹے چھوٹے لمحات بھی کم اہمیت نہیں رکھتے ،کبھی چند لمحے خاموشی میں گزارنا، کبھی اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اور شاید کبھی کبھی خود سے بھی بات کرنا،یہ سب وہ چیزیں ہیں جو انسان کو اندرونی طور پر مضبوط بناتی ہیں ،یہ لمحے بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں مگر اِن کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ زندگی کی رفتار کو مکمل طور پر کم کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ وقت کا تقاضا ہے مگر اِس رفتار کے ساتھ ایک توازن پیدا کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اِس کائنات میں کوئی شے بے مقصد پیدا نہیں کی ،اور انسان بھی اِس سے مستثنیٰ نہیں،اُسے عقل ،شعور اور سمجھ بوجھ اِسی لئے عطا کی گئی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ایک واضح مقصد کے ساتھ گزارے۔جب انسان اپنے وجود کو سمجھ لیتا ہے اور اپنے لئے ایک سمت متعین کر لیتا ہے تو زندگی کی دشواریاں بھی قدرے آسان محسوس ہونے لگتی ہیں ۔یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب انسان اپنے رب کی عطا کردہ ذمہ داری کو پہچان کر اُسے پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔کیونکہ ایک بامقصد زندگی نہ صرف انسان کو سنبھالتی ہے بلکہ اُسے وہ طاقت بھی دیتی ہے کہ وہ ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے۔