سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
مصنوعی انٹیلی جنس پرمبنی آٹومیشن کی وجہ سے خاص طورپرروایتی اورمینویل کاموں میں بہت سے ملازمتیں ختم ہورہی ہیں۔مصنوعی انٹیلی جنس میں سسٹمزکوتربیت دینے کیلئے بہت زیادہ ڈیٹاکی ضرورت ہوتی ہے،جس سے پرائیویسی کی خلاف ورزی کاخطرہ بڑھتاہے۔
الگورتھمزمیں تعصب یاغلط معلومات شامل ہوسکتی ہیں،جوغیرمنصفانہ فیصلوں کاباعث بن سکتی ہیں جس سے جانبداری اورعدم شفافیت کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔سائبرحملوں،جعلی ویڈیوز(ڈیپ فیکس)اوردیگرمجرمانہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے جس سے سیکورٹی کے خطرات کہیں زیادہ ہوگئے ہیں۔مصنوعی انٹیلی جنس پرزیادہ انحصارانسانی فیصلوں اور جذباتی سمجھ بوجھ کوکمزورکرسکتاہے جس سے اخلاقی اورمعاشرتی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔اورسب سے بڑھ کرجنگی نظاموں میں خودکارہتھیاروں کے استعمال سے انسانی جانوں کا خطرہ بڑھ سکتاہے جس کی واضح حالیہ مثال اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کے وائرلیس سسٹم (واکی ٹاکی)میں مخصوص سمزکے استعمال سے پہلے کئی ماہ ان کے نظام کی جاسوسی کی گئی اوربعدازاں اسے ایک ہی اشارہ سے بلاسٹ کرکے سینکڑوں افرادکوہلاک کردیاگیااورسینکڑوں کی تعداد میں عمربھرکیلئے معذورکردئے گئے۔اس میں شک نہیں کہ مصنوعی انٹیلی جنس اوردیگرسوشل میڈیاکے پروگرامزانسانی زندگی کوبہتربنانے کے بے شمارمواقع فراہم کرتے ہیں لیکن اس کے مؤثراورمحفوظ استعمال کیلئے مناسب قواعدوضوابط اوراخلاقی حدودکاتعین ضروری ہے۔معاشرے کوان کے فوائدسے مستفیدہونے کیلئینقصانات کوکم کرنے کی حکمت عملی نہ اپنائی گئی تویہ کل دنیاکوتاریک کرنے کاپیشگی نوٹس بھی ہے۔
اسلامی نقطہ نظرسے،جھوٹ اورغلط اطلاعات کوایک سنگین گناہ قراردیاگیاہے کیونکہ یہ انسانی معاشرے میں انتشاراورفتنہ کا سبب بنتی ہیں۔قرآن مجیداوراحادیث میں بہتان تراشی اورجھوٹ بولنے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔اللہ تعالی نے قرآن میں جھوٹ بولنے والوں کوبدترین انجام کی وعیددی ہے:
جب تم نے اس کواپنی زبانوں سے نقل کیااوراپنے منہ سے وہ کہاجس کاتمہیں علم نہ تھا،اورتم نے اسے معمولی سمجھا،حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔(النور:15-16)
اے ایمان والو!اگرکوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلے کرآئے توتحقیق کرلیاکرو،ایسانہ ہوکہ تم نادانی میں کسی قوم کونقصان پہنچابیٹھواورپھراپنے کیے پرشرمندہ ہو۔(الحجرات:6)
میرے آقاﷺکاارشادگرامی ہے:جوشخص کسی مسلمان پرجھوٹاالزام لگائے،اسے جہنم کے پل پرروکاجائے گایہاں تک کہ وہ اپنی بات سے رجوع کرے۔(سنن ابی داؤد)
آج دنیابھرکے دانشوراس بات پرمتفق ہیں کہ سوشل میڈیاپرپھیلائی ہوئی جھوٹی خبریں،اطلاعات اوردیگرمواد خانگی بربادی میں برا کرداراداکررہاہے اوریہی نہیں کہ اسی میڈیاکو کنٹرول کرنے والے اداروں کی مددسے کئی ملکوں کوتاراج کردیاگیاجس کی سب سے بڑی مثال ’’عرب بہار‘‘کے نام پرچلائی گئی تحریک اورعراقی صدرصدام پردنیاکوتباہ کرنے والے ہتھیاروں کاجھوٹاالزام لگاکرنہ صرف لاکھوں عراقیوں کوتہہ تیغ کردیاگیابلکہ ہزاروں سال پرانی عراقی تہذیب کوملیامیٹ کردیاگیااوردوسری طرف لیبیاکے معمر قذافی جس نے اپنے ملک کے عوام کی سہولت اورمراعات کیلئے بے مثال خدمات انجام دیں اورلیبیاکوایک بہترین فلاحی ریاست میں تبدیل کردیا۔اس کامحض قصوریہ تھاکہ اس نے اپنے ملک کوبیرونی اثرات اوردباسے محفوظ کرنے کیلئے وقت کے فراعین کے سامنے سرجھکانے سے انکارکردیااوراپنے پٹرول کی فروخت کیلئے’’امریکی ڈالر‘‘میں لین دین سے انکارکردیاتھا لیکن اسی میڈیاپرغلط خبریں چلائی گئیں کہ معمر قذافی کی ائیرفورس نے اپنے ہی شہربن غازی میں بمباری کرکے50 ہزارشہریوں کوہلاک کردیالیکن اگلے ہی دن اس خبرسے انکار کردیاگیالیکن اس خبرکی آڑمیں لیبیاپر’’نوفلائی زون‘‘قائم کرکے معمرقذافی کے خلاف مہم شروع کردی گئی جس کے نتیجے میں لیبیاجیسے خوشحال ملک میں خانہ جنگی شروع کروادی گئی اورآج لیبیاکاپٹرول مکمل طور پراستعمارکے قبضے میں جاچکاہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق،جھوٹ اورغلط اطلاعات کے پھیلاکی سختی سے ممانعت کی گئی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف معاشرتی امن تباہ ہوجاتاہے بلکہ اس سے جہاں اعتمادکافقدان پیداہوتاہے بلکہ فتنہ وفسادکوہواملتی ہے۔پاکستان جیسے ممالک میں جھوٹی اطلاعات کے نتیجے میں نہ صرف سماجی تنازعات پیداہوتے ہیں بلکہ دشمن عناصران حالات سے فائدہ اٹھاکر سیاسی انارکی کوہوادیتے ہیں۔قرآن اورسنت کی تعلیمات کی روشنی میں،یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیق کے بغیرکسی خبرکونہ پھیلائیں۔اس کیلئے ضروری ہے کہ بہترین تعلیم وتربیت کے ذریعے معاشرتی تعلیم کے ذریعے عوام کواسلامی اصولوں کی اہمیت سے روشناس کرایاجائے اورتحقیقی شعورپیداکرکے قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہر خبرکی تحقیق کولازمی قراردیاجائے اوربہتان تراشی اورجھوٹ کے پھیلاکے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
اگرہم ان اقدامات کی طرف آج ہی اپناسفرشروع کردیں توآپ خوددیکھیں گے کہ سماجی مسائل اورحقوق کے بارے میں آگاہی پیدا ہونے سے لوگوں کے شعورکی بیداری سے روابط میں بہتری آناشروع ہوجائے گی اورتعلیمی ترقی کے مواقع بھی وسیع ہونا شروع ہوجائیں گے جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ سوشل میڈیاکازیادہ منفی استعمال سماجی تعلقات کو متاثر کررہاہے جس سے سماجی علیحدگی سے نوجوان نسل ذہنی دباؤاورتناؤکاشکارہورہی ہے اورجھوٹی معلومات اورپروپیگنڈامعاشرتی تفریق کاسبب بن رہے ہیں۔
یقیناسوشل میڈیاکے مثبت نتائج سے قطعی انکارنہیں کہ اس سے لوگوں کے درمیان روابط میں بہتری آئی ہے اوروہ خاندان کے افرادجویکسرایک دوسرے کیلئے اجنبی بنتے جارہے تھے ،ان کوآپس میں ملانے میں ایک مثبت کردارسامنے آرہاہے۔سماجی مسائل اورحقوق کے بارے میں آگہی اورادراک پیداہورہاہے،تعلیم کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں اوردنیابھرکے کاروباری اداروں میں کام کرنے والے اب اپنے گھروں سے بیٹھ کردفاترکاکام سرانجام دیکراربوں ڈالرکی بچت کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں جس سے افرادکی زندگی میں جہاں سہولتوں میں اضافہ ہورہاہے وہاں ڈیپریشن میں کمی اورمعیارِزندگی بہترہورہاہے لیکن ہمیں یہ ہرگزنہیں بھولناچاہئے کہ سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے نتیجے میں نوجوان نسل ذہنی دباؤاورتناؤکاشکارہونے کے ساتھ ساتھ جھوٹی معلومات اورپروپیگنڈے کی بناپرمعاشرتی تفرقے کاشکارہوکرخودکشیوں کی طرف بھی جلدمائل ہورہے ہیں جس سے کئی خاندان متاثرہورہے ہیں۔
اس کیلئے اب ضروری ہوگیاہے کہ سوشل میڈیاکے غلط استعمال کوروکنے کیلئے سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔عوام کوجھوٹی معلومات کی پہچان اوران سے بچاؤکے بارے میں آگاہ کیا جائے۔سوشل میڈیاپلیٹ فارمزکوجدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فیک اکاؤنٹس اورغلط معلومات کی نشاندہی کیلئے استعمال کیاجائے۔سائبرکرائم کے ساتھ سختی سے نمٹنے کیلئے مزیدانقلابی تبدیلیوں کومتعارف کروایاجائے بلکہ سوشل میڈیاٹیکنالوجی کے ماہرین کوآگے بڑھ کرایسے محفوظ پروگرام متعارف کروانے کی ضرورت ہے جو اسے اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کی بقاکیلئے محفوظ بناسکیں۔
سوشل میڈیاایک ایساپلیٹ فارم ہے جوزندگی کے ہرپہلوپراثراندازہورہاہے۔جہاں اس کے بے شمارفوائدہیں،وہیں اس کے نقصانات کو بھی نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیاکااستعمال اعتدال اورمثبت مقاصدکیلئے کریں تاکہ اس کے نقصانات سے بچاجاسکے اوراس کے فوائدسے بھرپوراستفادہ کیاجاسکے۔تحقیقی اداروں کی رپورٹس اورماہرین کی تجاویزکے مطابق،سوشل میڈیاکااستعمال منظم اورتعمیری ہوناچاہیے تاکہ اس کے مثبت اثرات کومزیدفروغ دیاجاسکے۔