سنگین جرائم میں ملوث افراد اکثر منظم گروہوں کا حصہ ہوتے ہیں‘ساتھی انہیں چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں
ایسے افراد کو چھڑانے آنے والے لوگ مٹھائیاں لے کر نہیں آتے بلکہ اسلحہ لے کر آتے ہیں:وزیراطلاعات
لاہور (آئی این پی)ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے کے مقدمے کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کی پولیس مقابلے میں ہلاکت نے پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ(سی سی ڈی) کے طریقہ کار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے وزیراعلی مریم نواز کی جانب سے ملزموں کو مقابلوں میں ہلاک کرنے کے احکامات دینے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے ساتھی انہیں چھڑانے کے لیے مسلح ہوکر آتے ہیں تاہم مختلف مقابلوں میں ملزمان کی ہلاکت اور مبینہ حملہ آوروں کے فرار ہونے کے واقعات پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ عظمی بخاری نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ سی سی ڈی میں مبینہ پولیس مقابلوں کی تعداد کسی منظم حکومتی پالیسی یا وزیراعلی مریم نواز کی ہدایات کا نتیجہ ہے۔عظمی بخاری نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد اکثر منظم گروہوں کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کے ساتھی انہیں چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا ایسے افراد کو چھڑانے آنے والے لوگ مٹھائیاں لے کر نہیں آتے بلکہ اسلحہ لے کر آتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلی مریم نواز نے سی سی ڈی کو ملزمان کے انکائونٹر کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔ ان کے مطابق وزیراعلی کو پہلے سے معلوم نہیں ہوسکتا کہ کسی کارروائی کے دوران مسلح تصادم ہوگا یا نہیں۔