بھارت نے پاکستان کو سفارتی اقدامات سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کر دیا

بھارت نے پاکستان کو سفارتی اقدامات سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کر دیا

ویب ڈیسک : پہلگام میں پیش آنے والے افسوسناک فائرنگ واقعے کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان کے خلاف سخت سفارتی اقدامات اٹھاتے ہوئے پاکستانی ہائی کمیشن کے متعدد افسران کو "ناپسندیدہ شخصیات" قرار دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی ناظم الامور سعد احمد وڑائچ کو طلب کر کے تحریری نوٹس تھما دیا، جس میں واضح طور پر ان افسران کو ایک ہفتے کے اندر بھارت چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

بھارتی اقدامات کا پس منظر
دو روز قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع پہلگام میں سیاحتی مقام پر پیش آنے والے فائرنگ واقعے میں 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جس کا الزام بھارت نے بالواسطہ طور پر پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستانی ردعمل
ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا:“ہم پہلگام واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔”تاہم، پاکستان نے واضح طور پر واقعے میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور بھارت کے سفارتی اقدامات کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطے کے امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھی جاری کشیدگی کا حصہ
اس اقدام سے ایک روز قبل ہی بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ 1960ء سے جاری سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے ماہرین "آبی دہشت گردی" اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کی رائے
عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ:"بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سفارتی عملے کو ملک بدر کرنا اور پانی کی تقسیم کے معاہدے کو ختم کرنا دونوں اقدامات نہ صرف بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی بڑھانے کا واضح اشارہ بھی ہیں۔"