لاہور(خصوصی رپورٹ)لاہور ہائیکورٹ نے ہتکِ عزت کے دعوے کو مدتِ معیاد کی بنیاد پر خارج کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ خصوصی ٹربیونل قائم نہ ہو تو شہری کو ہتک عزت کیس دائر کرنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس مرزا وقاص رف اور جسٹس انوار حسین نے اپیل پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ہتکِ عزت کے دعوے پر میرٹ کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔عدالت نے محمد فاروق ملک کی اپیل منظور کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ ہتکِ عزت ٹربیونل کو بھجوا دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق حکومت ہتکِ عزت مقدمات کے لیے خصوصی ٹربیونل قائم نہ کرے تو شہری مقررہ مدت کے اندر سول عدالت سے رجوع کر سکتا ہے، خصوصی ٹربیونل کے تاخیر سے قیام کی وجہ سے شہری کا قانونی حق ختم نہیں کیا جا سکتا