لاہور: عالمی فضائی آلودگی کی درجہ بندی میں لاہور ایک بار پھر آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا، جہاں شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 179 ریکارڈ کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 19 ستمبر 2026 کو لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح تشویشناک رہی۔رپورٹس کے مطابق ماڈل ٹاؤن میں اے کیو آئی 211 ریکارڈ کیا گیا، جو آلودہ کیٹیگری میں آتا ہے، جبکہ پیراگون سٹی میں 197 اور اقبال ٹاؤن میں 190 ریکارڈ ہوا۔ اسی طرح ڈی ایچ اے فیز فائیو میں 171، چمن پارک میں 165، برکی روڈ میں 162 اور بیدیاں روڈ میں 160 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا۔دوسری جانب پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے سرکاری لائیو ڈیش بورڈ پر لاہور کا اے کیو آئی دن کے مختلف اوقات میں مزید اتار چڑھاؤ دکھا رہا ہے۔ صبح 9 بجے شہر کا اوسط اے کیو آئی 187 ریکارڈ ہوا، جبکہ بعض مانیٹرنگ اسٹیشنز پر آلودگی کی سطح 200 سے بھی تجاوز کر گئی۔ماہرین کے مطابق اے کیو آئی کی بلند سطح خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے حالات میں غیر ضروری طور پر طویل وقت تک کھلی فضا میں رہنے سے گریز اور آلودہ ہوا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
لاہور کا موسم
مقامی رپورٹ کے مطابق لاہور میں صبح کے وقت درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیش گوئی کی گئی۔ ہوا میں نمی کا تناسب تقریباً 65 فیصد جبکہ ہواؤں کی رفتار 3 سے 5 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان بتایا گیا تھا۔تاہم پاکستان محکمہ موسمیات کے تازہ مشاہدے کے مطابق 19 ستمبر کو لاہور میں صبح 9 بجے درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ، نمی 68 فیصد اور بارش صفر ریکارڈ ہوئی۔ آئندہ دنوں کے لیے بھی لاہور میں گرم اور زیادہ تر خشک موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ صورتحال میں بارش کا امکان کم ہے، جبکہ کم رفتار ہوائیں فضائی آلودگی کے پھیلاؤ اور شہری علاقوں میں آلودہ ہوا کے برقرار رہنے کا باعث بن سکتی ہیں۔