چوہدری افضل
زندگی ایک ایسا سفر ہے جس کی مدت کسی کو معلوم نہیں، مگر اس کی آخری منزل موت ہے۔ انسان صبح آنکھ کھولتا ہے تو امیدوں، خواہشوں اور منصوبوں کی ایک طویل فہرست اس کے سامنے ہوتی ہے۔ وہ مستقبل کے خواب بنتا، کامیابیوں کے محل تعمیر کرتا اور دنیا کو اپنا مستقل مسکن سمجھنے لگتا ہے، لیکن بھول جاتا ہے کہ وقت کی مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتے ہوئے لمحات اس کی مہلتِ حیات کو مسلسل کم کر رہے ہیں۔ دنیا کی زندگی عارضی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی ابدی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھ لینا حقیقی کامیابی کی بنیاد ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں، عظیم الشان محلات اور ناقابلِ تسخیر سمجھی جانے والی افواج بھی وقت کے ہاتھوں شکست کھا گئیں۔ مصر کے فرعونوں نے اپنی عظمت کو دوام بخشنے کے لیے اہرام تعمیر کروائے اور اپنے اجساد محفوظ رکھنے کے انتظامات کیے، مگر ان کی بادشاہتیں تاریخ کے اوراق تک محدود ہو گئیں۔ آج ان کے مقبرے ماضی کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں، لیکن ان کا اقتدار اور جاہ و جلال قصہ پارینہ بن چکا ہے۔
سکندرِ اعظم نے وسیع علاقے فتح کیے، بڑے بڑے حکمرانوں کو شکست دی اور اپنی قوت کا لوہا منوایا، لیکن وہ بھی زندگی کی مہلت ختم ہونے پر بے بس ہو گیا۔ مغل بادشاہوں کے محلات، رومی سلطنت کے آثار اور یونانی تہذیب کی باقیات آج بھی انسان کو یاد دلاتی ہیں کہ عروج ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ تخت و تاج، دولت و شہرت اور اقتدار و اختیار سب یہیں رہ جاتے ہیں۔ انسان دنیا میں اپنی شناخت بنانے کے لیے عمر بھر جدوجہد کرتا ہے، مگر بالآخر اسے اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ کوئی بھی ہمیشہ کے لیے یہاں نہیں آیا۔
اسلام نے زندگی اور موت کے فلسفے کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔‘‘ (سورۃ آلِ عمران: 185) یہ پیغام انسان کے غرور، تکبر اور خود فریبی کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ قرآنِ حکیم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور آخرت دائمی۔ اس کا مطلب دنیاوی ذمہ داریوں سے منہ موڑنا نہیں، بلکہ اپنے اعمال، معاملات اور کردار کو اس انداز میں سنوارنا ہے کہ دنیا بھی بہتر ہو اور آخرت بھی کامیاب۔افسوس کہ آج انسان دولت جمع کرنے، عہدہ حاصل کرنے، شہرت کمانے اور دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں اپنی اصل منزل بھول جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے حقوق پامال کرکے کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے، نفرتیں پھیلاتا ہے، جھوٹ اور دھوکے کو معمول بنا لیتا ہے اور اپنی انا کی تسکین کے لیے دوسروں کے دل دکھاتا ہے۔ اسے احساس نہیں ہوتا کہ دنیا کی عدالتوں سے بچ نکلنے والا بھی اپنے اعمال کی جواب دہی سے ہمیشہ نہیں بچ سکتا۔ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتے اور ان کی تعلیم، خوراک اور آسائشوں کا انتظام کرتے ہیں، مگر کیا ہم ان کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی پر بھی اتنی ہی توجہ دیتے ہیں؟ کیا ہم خود اپنی زندگی میں سچائی، دیانت، انصاف اور انسان دوستی کی مثال قائم کرتے ہیں؟ اولاد کے لیے دولت چھوڑ جانا اچھی بات ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ قیمتی ورثہ اچھا کردار اور نیک تربیت ہے۔
موت کا تصور مایوسی پیدا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی کی قدر سکھانے کے لیے ہے۔ یہ احساس کہ ہماری مہلت محدود ہے، ہمیں اپنے رویّوں کی اصلاح، رشتوں کی قدر، ضرورت مندوں کی مدد اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اگر انسان یہ سوچ لے کہ نہ جانے اس کی زندگی کا آخری دن کون سا ہو، تو شاید وہ نفرتوں کو محبت، ناراضیوں کو معافی اور خود غرضی کو خدمت میں بدلنے کی کوشش کرے۔ کسی کا حق دبانے یا کسی پر ظلم کرنے سے پہلے اسے اپنی جواب دہی کا احساس ضرور کرنا چاہیے۔
آخرت کی تیاری محض زبانی دعووں یا رسمی عبادات تک محدود نہیں۔ عبادت کے ساتھ حسنِ اخلاق، حلال رزق، والدین کے حقوق، اہلِ خانہ سے حسنِ سلوک، پڑوسیوں کی خبرگیری اور یتیموں و محتاجوں کی مدد بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا گیا ہر نیک عمل انسان کے لیے امید اور نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔زندگی ایک امانت ہے اور موت اس امانت کی واپسی۔ نہ معلوم سانسوں کی مہلت کب پوری ہو جائے، اس لیے نیکی کو کل پر اور توبہ کو بڑھاپے پر مؤخر کرنا دانش مندی نہیں۔ دنیا میں محنت کیجیے، ترقی کیجیے، خاندان کی کفالت اور انسانیت کی خدمت کیجیے، مگر دنیا کو اپنی آخری منزل نہ سمجھیے۔
دنیا فانی ہے، آخرت باقی؛ دنیا عمل کی جگہ ہے اور آخرت جزا کی۔ خوش نصیب وہ انسان ہے جو اس حقیقت کو زندگی ہی میں پہچان لے، اپنے کردار کو سنوارے، حقوق العباد ادا کرے اور اپنے خالق کے حضور جواب دہی کے احساس کے ساتھ زندگی گزارے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان دنیا سے کتنا کچھ لے کر گیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے کتنی نیکیاں، کتنی دعائیں اور کتنے اچھے کردار کے نقوش چھوڑ گیا۔