لاہور بھر میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی من مانے نرخوں پر فروخت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سرکاری قیمت 279 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود بازار میں ایل پی جی 450 روپے فی کلو تک فروخت کیے جانے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔
سوئی گیس کی قلت، ایل پی جی پر انحصار بڑھ گیا
تفصیلات کے مطابق سوئی گیس کی عدم دستیابی کے باعث گھریلو صارفین کی بڑی تعداد کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ تاہم گیس کی قیمتوں میں مبینہ خودساختہ اضافے نے عوام کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔مہنگی ایل پی جی کے باعث گھریلو بجٹ متاثر ہو رہا ہے، جبکہ محدود آمدن والے خاندانوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث گھریلو اخراجات میں اضافہ ہوچکا ہے، ایسے میں گیس کی قیمتوں میں اضافے نے مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔
مہنگی گیس سے رکشہ ڈرائیور بھی پریشان
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے رکشہ ڈرائیوروں کو بھی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ رکشہ ڈرائیوروں کے مطابق گیس مہنگی ہونے سے روزانہ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث ان کی بچت اور آمدن متاثر ہورہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایندھن پر زیادہ رقم خرچ ہونے کے بعد روزانہ کی کمائی سے گھر کے اخراجات پورے کرنا دشوار ہوگیا ہے۔ اگر گیس کی قیمتوں میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو ان کے لیے روزگار کے اخراجات برداشت کرنا مزید مشکل ہوجائے گا۔
سرکاری نرخوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث بعض دکاندار مبینہ طور پر من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔شہریوں اور رکشہ ڈرائیوروں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی زائد قیمتوں پر فروخت کا فوری نوٹس لیا جائے، دکانوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے اور سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شہریوں کا قیمتوں پر کنٹرول یقینی بنانے کا مطالبہ
عوام کا کہنا ہے کہ ایل پی جی روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، اس لیے اس کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول ضروری ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنا کر انہیں اضافی مالی بوجھ سے بچایا جائے۔