گیس کے چولہے میں اورنج رنگ کا شعلہ ‘ کیا مطلب ہوتا ہے؟

لاہور(نیٹ نیوز)اگلی بار جب آپ چولہے کو جلائیں تو اس سے نکلنے والے شعلوں پر توجہ مرکوز کریں۔گیس کے چولہوں میں کچھ خطرات بھی ان کے شعلوں کے پیچھے چھپے ہوسکتے ہیں، جن میں سے ایک مسئلہ فضائی معیار ہے۔مگر فضائی معیار سے قطع نظر آپ کو شعلوں کی رنگت پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ماہرین کے مطابق گیس کے چولہے سے نکلنے والے شعلے عمومی طور پر نیلے رنگ کے ہوتے ہیں جن میں معمولی حد تک کوئی اور رنگ بھی نظر آتا ہے۔مثال کے طور پر قدرتی گیس کے شعلے میں نیلے رنگ کے ساتھ اوپر کی جانب معمولی سی سفیدی نارمل ہوتی ہے یا ایل پی جی میں نیلے شعلے کے ساتھ معمولی زردی مائل رنگ بھی نارمل ہوتا ہے۔مگر جب شعلے کا بیشتر حصہ کسی اور مختلف رنگ کا ہو تو یہ ضرور اشارہ ہوتا ہے کہ کچھ تو غلط ہے۔نیلے شعلے قدرتی گیس کے مکمل طور احتراق یا جلنے کا عندیہ دیتے ہیں۔قدرتی گیس زیادہ تر میتھین پر مشتمل ہوتی ہے اور جب وہ آپ کے چولہے میں درست طریقے سے جلتی ہے تو تمام ایندھن اوپر کی جانب جاکر حرارت، پانی کے بخارات اور کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔شعلے اس لیے نیلے ہوتے ہیں کیونکہ جلنے کے عمل کے دوران روشنی شارٹ ویو لینتھ میں بنتی ہے۔اگر چولہے میں شعلے کی رنگت میں اورنج رنگ کا غلبہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ احتراق کا عمل مکمل نہیں ہو رہا اور ایسا اکثر گندے چولہوں، ہوا میں گرد و غبار یا نمی، برنر کے سوراخ بند ہونے، ہوا کی فراہمی میں کمی یا برنر کی خرابی کے باعث ہوتا ہے۔یعنی تمام وجوہات پریشانی کا باعث نہیں ہوتے مگر جب شعلے کی رنگت میں مسلسل پیلے، سرخ یا اورنج رنگ کا غلبہ ہو تو پھر چولہے کو چیک کروانا چاہیے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلسل پیلے یا اورنج رنگ کا مطلب نامکمل احتراق اور کاربن مونو آکسائیڈ کا خطرہ ہوسکتا ہے۔کاربن مونو آکسائیڈ بے رنگ اور بے بو گیس ہوتی ہے اور زندگی کے لیے خطرہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔مگر اس سے ہٹ کر اورنج شعلے کا مطلب یہ ہے کہ گیس زیادہ ضائع ہو رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گیس کا بل بھی بڑھ جاتا ہے جبکہ گھر کا اندرونی فضائی معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔