بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا،پانی مانگا، زیادہ تر زندہ تھے، بعد میں پتا چلا موت ہوگئی
مرد ٹیچر چھٹی پر تھا، لڑکوں کی کلاس میں پرنسپل جانے لگے تو چھت گری:عینی شاہد
پشاور(خصوصی رپورٹ)ایک عینی شاہد زاہد سلیم نیبتایا ہے کہ انہیں سائرن اور ایمبولینس کی آواز آئی تو وہ اور دیگر علاقہ مکین فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور انہوں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ بھی لیا۔وہ قریب واقع کالج میں انگریزی کے پروفیسر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’میں جیسے ہی یہاں پہنچا تو علاقہ مکینوں نے بتایا کہ نجی سکول کی چھت گِر گئی ہے۔‘انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے 20 سے 22 بچوں کو ملبے سے نکالا۔‘’میں نے خود اپنے ہاتھوں سے چھ بچوں کو نکالا۔ ان میں زیادہ تر زندہ تھے اور باتیں بھی کر رہے تھے لیکن بعد میں پتا چلا ان کی موت ہو چکی ہے۔‘’بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔وہ یاد کرتے ہیں کہ ’ایک بچے نے کہا بہت درد ہو رہا ہے۔ منہ میں زبان خشک ہو چکی ہے، پانی دے دو۔ میں نے کہا ہم آپ کو پانی دے رہے ہیں۔‘وہ کہتے ہیں کہ ریسکیو اہلکاروں کے ہمراہ انہوں نے ’بچوں کو عمارت سے باہر نکال کر ایمبولینس میں ڈال دیا تھا۔‘’پھر میں نے پرنسپل اور عملے سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اوپر لڑکیوں اور نیچے لڑکوں کی کلاسز تھیں۔‘زاہد سلیم بتاتے ہیں کہ ’خاتون ٹیچر کی موت واقع ہوئی جبکہ لڑکوں کا ٹیچر آج نہیں آیا تھا۔ لڑکوں کے ٹیچر کی جگہ پرنسپل جیسے ہی اندر جانے والے تھے تو اسی وقت سکول کی چھت گِر گئی۔ایک اور عینی شاہد سہیل نے بتایا میری بہن نے ساڑھے نو بجے مجھے بلایا کہ بھائی جلدی آ جا ئو۔ سکول کے چھوٹے چھوٹے بچے چھت کے نیچے آ گئے تھے۔ میں نے اور علاقے کے لوگوں نے جلدی سے بیلچے سے انہیں نکالنے کی کوشش کی۔