عالمی منڈی میں خام تیل سستا،

عالمی منڈی میں خام تیل سستا،

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد برینٹ خام تیل 105 ڈالر 51 سینٹ جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 97 ڈالر 43 سینٹ فی بیرل پر آگیا۔

 قیمتوں میں کمی کی ایک ممکنہ وجہ تیل کی ترسیل پر عائد بعض امریکی پابندیوں میں نرمی کی توقع اور سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ بتایا جارہا ہے۔رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 41 سینٹ، یعنی 0.39 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد اس کی قیمت 105 ڈالر 51 سینٹ فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 54 سینٹ، یعنی 0.55 فیصد کم ہوکر 97 ڈالر 43 سینٹ فی بیرل پر آگئی۔

ہنگامی ذخائر سے تیل جاری کرنے کا منصوبہ

خام تیل کی قیمتوں میں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی توانائی کی سپلائی پر دباؤ کم کرنے کے لیے ہنگامی ذخائر سے تیل جاری کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے ہنگامی ذخائر سے 2 کروڑ بیرل سے زائد ڈیزل اور دیگر تیل جاری کرنے کے منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد توانائی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے اثرات کو کم کرنا اور عالمی منڈی میں رسد کو سہارا دینا ہے۔ماہرین کے مطابق ہنگامی ذخائر سے تیل جاری ہونے کی توقع قیمتوں پر دباؤ کم کرسکتی ہے، تاہم اس کا حقیقی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ تیل کتنی مقدار میں اور کتنی تیزی سے مارکیٹ میں پہنچتا ہے۔

امریکا کی تیل بردار جہازوں پر پابندیاں نرم کرنے پر غور

خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ تیل کی ترسیل کے ریکارڈ بلند اخراجات کم کرنے کے لیے بعض تیل بردار جہازوں پر عائد پابندیاں اٹھانے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان جہازوں میں ایسے بحری جہاز بھی شامل ہوسکتے ہیں جو روس، ایران اور وینزویلا سمیت مختلف ممالک سے تیل منتقل کرتے رہے ہیں۔اگر ان پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے تو تیل کی ترسیل کے لیے دستیاب جہازوں کی تعداد اور سپلائی کے امکانات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پابندیوں میں نرمی سے متعلق کسی حتمی فیصلے اور اس کے عملی اثرات کا تعین متعلقہ سرکاری اعلان کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، تیل کی سپلائی کو خطرات

دوسری جانب آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں پر دوبارہ حملوں اور سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے باعث خطے میں توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس راستے پر بحری آمدورفت متاثر ہونے سے تیل کی ترسیل، بیمہ اور جہاز رانی کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جانے کا سبب بھی بن سکتی ہے، خصوصاً اگر تیل کی سپلائی میں نمایاں رکاوٹ پیدا ہو۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا آئندہ رجحان

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا انحصار آئندہ دنوں میں کئی عوامل پر ہوگا، جن میں ہنگامی ذخائر سے تیل کی فراہمی، امریکی پابندیوں سے متعلق فیصلے، عالمی طلب اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال شامل ہیں۔اگر عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی بہتر ہوتی ہے تو قیمتوں میں مزید کمی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے، تاہم بحری راستوں میں رکاوٹوں یا کشیدگی میں اضافے سے قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے عالمی قیمتوں میں کمی اہمیت رکھتی ہے، لیکن مقامی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین شرح مبادلہ، درآمدی اخراجات، ٹیکسوں اور حکومتی فیصلوں سمیت دیگر عوامل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس لیے عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کا اثر مقامی صارفین تک پہنچنے کے لیے ضروری نہیں کہ فوری یا اسی تناسب سے ہو۔