کیمرے والی عینکوں کی فروخت، لاہور ہائیکورٹ حکومتی اداروں پر برہم معاملہ فوری طور پر وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے:چیف جسٹس

 ان عینکوں کے ذریعے کسی کی بھی خفیہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائی جا سکتی ہے، جو شہریوں کی نجی زندگی کیلئے سنگین خطرہ ہے:ریمارکس
 لاہور(یو این پی )لاہور ہائیکورٹ نے خفیہ کیمرے والی عینکوں کی غیر قانونی درآمد اور کھلے عام فروخت پر متعلقہ حکومتی اداروں کی سرزنش کرتے ہوئے وزارتِ کامرس کو معاملہ فوری طور پر وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے خبردار کیا کہ ان عینکوں کے ذریعے کسی کی بھی خفیہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائی جا سکتی ہے، جو شہریوں کی نجی زندگی کیلئے سنگین خطرہ ہے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نادرہ بی بی کی درخواست پر سماعت کے دوران استفسار کیا کہ متعلقہ محکمے کیا کر رہے تھے کہ خفیہ کیمرے جیسی حساس اشیا بازاروں میں سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر ان عینکوں کے ذریعے کسی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ انہوں نے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی سنگینی کو سمجھیں اور اپنے بچوں سے بھی ایسی عینکوں کے بارے میں پوچھیںلاہور ہائیکورٹ نے وزارتِ کامرس کو معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی۔