اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں قائم حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار ہو گئی ہے، کیونکہ ان کی اہم اتحادی جماعت "یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (UTJ)" نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔
علیحدگی کی وجہ:
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس بحران کی بنیادی وجہ ایک انتہائی حساس مسئلہ تھا:الٹرا آرتھوڈوکس یہودی مذہبی طلبہ کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ قرار دینے کا بل۔UTJ جماعت اور دیگر مذہبی اتحادی جماعتیں برسوں سے اس بل کی منظوری کی منتظر تھیں۔لیکن حکومت کی جانب سے اس پر اتفاق نہ ہونے کے بعد UTJ نے حکومت سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔
سیاسی صورتحال:
UTJ کے ایک رکن پہلے ہی مستعفی ہوچکے تھے۔اب جماعت کے بقیہ 6 ارکان نے بھی پارلیمنٹ میں نیتن یاہو کی حمایت واپس لے لی۔120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں نیتن یاہو کو اب صرف 1 نشست کی اکثریت حاصل ہے۔
آئندہ کیا ہو سکتا ہے؟
تمام نظریں اب "شاس پارٹی" پر ہیں، جو 11 نشستیں رکھتی ہے۔اگر شاس پارٹی نے بھی حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو نیتن یاہو کی حکومت فوری طور پر گر سکتی ہے، اور نئے انتخابات کا امکان بڑھ جائے گا۔
بحران کا وقت:
یہ سیاسی بحران ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب:اسرائیل میں اندرونی سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ملک کو معاشی چیلنجز اور ایران و غزہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا سامنا ہے۔
عوام میں موجودہ حکومت کی مقبولیت پہلے ہی کم ہو رہی تھی۔
تجزیہ:
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ نیتن یاہو کے سیاسی کیریئر کا ایک نازک موڑ ہے۔ اگر وہ اتحادیوں کو منانے میں ناکام رہے تو ممکنہ طور پر انہیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔