یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں 3 ستمبر سے جاری کشیدگی اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں اب تک کم از کم 150 عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔
حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے، جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔یمنی حکومت نے شہری آبادی کو درپیش صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری تشدد کے باعث عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔حکومت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور یمن میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے۔