سویلین علاقوں پر حملے؛ ایران کو ناقابلِ برداشت نتائج کا سامنا ہوگا، اسرائیلی وارننگ

سویلین علاقوں پر حملے؛ ایران کو ناقابلِ برداشت نتائج کا سامنا ہوگا، اسرائیلی وارننگ

 ایرانی میزائل حملے کے بعد اسرائیل کی سخت وارننگ: "ناقابلِ برداشت قیمت چکانی ہو گی"
 تاریخ: 14 جون 2025
مقام: یروشلم / تل ابیب
ذرائع: چینل 12، اسرائیلی حکام، عالمی میڈیا رپورٹس

  تازہ ترین صورتحال:
ایران کی جانب سے اسرائیل پر دو بیلسٹک میزائل بیراج فائر کیے جانے کے بعد، اسرائیل نے ان حملوں کو سویلین آبادی کے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے ایران کو ناقابلِ برداشت نتائج کی وارننگ دے دی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے ایک سینئر اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ:"ایران شہری علاقوں پر اپنے میزائل حملوں کی ناقابلِ برداشت قیمت ادا کرے گا۔"یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب اسرائیل بھر میں سائرن بجتے رہے اور کئی مقامات پر میزائلوں کو فضا میں انٹرسیپٹ کیا جاتا رہا۔

  ایرانی حملے کا پس منظر:
ایران نے اسرائیل پر سینکڑوں بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے اکثر کو اسرائیلی ائیر ڈیفینس سسٹمز — آئرن ڈوم اور امریکی ساختہ THAAD — نے راستے میں تباہ کر دیا۔
تاہم، کچھ میزائل اسرائیلی حدود میں آگرے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

  اسرائیلی اہلکاروں کے سخت بیانات:
چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، ایک نامعلوم اسرائیلی سیاسی ذریعے نے کہا:"ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل نے آج ایرانی اہداف پر کیا مارا، اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس نے کن مقامات کو ابھی نشانہ نہیں بنایا۔ یہی اگلا مرحلہ ہو گا۔"یہ بیان اشارہ دیتا ہے کہ اسرائیل ایرانی توانائی، انفراسٹرکچر یا جوہری تنصیبات پر جوابی حملے کے لیے تیاری کر رہا ہے۔

  سائرن، خوف، اور ممکنہ جنگی مرحلہ:
رات گئے پورے اسرائیل میں سائرن بجتے رہے، اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔فوجی ذرائع کے مطابق، اسرائیل مزید ایرانی حملوں کے امکان کو رد نہیں کر رہا، اور "تمام آپشنز کھلے ہیں"۔

  عالمی سطح پر تناؤ میں اضافہ:
امریکا اور یورپ نے صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے.اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے پر غور جاری ہے.خلیجی ریاستیں ممکنہ علاقائی جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششوں میں سرگرم ہو چکی ہیں
  تجزیہ:
ایرانی میزائل حملوں اور اسرائیلی جوابی بیانات سے واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک نئے اور ممکنہ طور پر بڑے جنگی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔اگر اسرائیل نے واقعی توانائی یا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، تو ایران کی طرف سے مزید سخت ردعمل متوقع ہو سکتا ہے۔