لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار، ایئر کوالٹی انڈیکس 338 تک پہنچ گیا، متعدد علاقوں میں اے کیو آئی 600 سے تجاوز کر گیا

لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار، ایئر کوالٹی انڈیکس 338 تک پہنچ گیا، متعدد علاقوں میں اے کیو آئی 600 سے تجاوز کر گیا

لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی تشویشناک ہو گئی، شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا۔

 فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) خطرناک سطح تک پہنچ گیا۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 338 ریکارڈ کیا گیا، جو انتہائی غیر صحت بخش فضائی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شرح مجموعی اوسط سے بھی کہیں زیادہ رہی۔اعداد و شمار کے مطابق برکی روڈ پیراگون میں فضائی آلودگی کی شرح 631 ریکارڈ کی گئی، جو انتہائی خطرناک سطح ہے۔ اسی طرح سی ای آر پی آفس میں اے کیو آئی 555 جبکہ علامہ اقبال ٹاؤن میں 495 ریکارڈ کیا گیا۔دیگر علاقوں میں بھی فضائی آلودگی کی صورتحال تشویشناک رہی۔ ایئر واچ پاکستان میں ایئر کوالٹی انڈیکس 469 اور اے آر ایم میں 445 تک پہنچ گیا، جبکہ بیدیاں روڈ پر 364 اور لاہور کینٹ میں 362 ریکارڈ کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق ماڈل ٹاؤن اے بلاک میں اے کیو آئی 320، اے آر سی لاہور میں 318 جبکہ ڈی ایچ اے فیز 5 بی بلاک میں 297 ریکارڈ ہوا۔ مختلف علاقوں میں آلودگی کی یہ بلند شرح شہریوں کے لیے صحت کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق آلودہ فضا میں موجود باریک ذرات انسانی نظام تنفس کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کھانسی، گلے میں خراش، سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن اور الرجی جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ فضائی آلودگی کا مسلسل سامنا دمہ اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ماہرین صحت نے بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز، باہر جاتے وقت مناسب حفاظتی ماسک استعمال کرنے اور آلودہ ماحول میں زیادہ دیر قیام نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آج لاہور میں بارش کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا، جس کے باعث فضائی آلودگی میں فوری کمی کی امید محدود ہو گئی ہے۔ بارش نہ ہونے اور فضائی آلودگی کی موجودہ شدت کے باعث شہریوں کو مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس 301 سے 500 تک خطرناک جبکہ 500 سے زیادہ ہونے پر انتہائی شدید آلودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار شہر میں فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں۔