ٹرمپ حکومت میں تبدیلیاں شروع، مزید برطرفیوں کا بھی خدشہ

ٹرمپ حکومت میں تبدیلیاں شروع، مزید برطرفیوں کا بھی خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں حالیہ دنوں میں اعلیٰ سطح پر متعدد اہم حکومتی عہدوں پر تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جس سے انتظامیہ میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹارنی جنرل پام بانڈی کی برطرفی کے بعد کابینہ میں اعلیٰ حکام پریشان ہیں اور اپنی ملازمت کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے خدشات بھی ہیں کہ مزید اہم شخصیات کو بھی جلد برطرف کیا جا سکتا ہے، جن میں ممکنہ طور پر ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل، ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم، اور وزیر محنت لوری شاویز ڈی ریمر شامل ہیں۔اسی دوران امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر دفاع چاہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف ایسے ہوں جو فوجی معاملات میں صدر ٹرمپ اور ان کے وژن کے مطابق کام کریں۔ جنرل رینڈی جارج نے پہلے للوئیڈ آسٹن کے دور میں سینئر ملٹری اسسٹنٹ کے طور پر خدمات سرانجام دی ہیں اور وہ پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی شامل رہ چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں امریکی حکومت کی داخلی پالیسیوں اور عسکری حکمت عملی کو نئے انداز میں ترتیب دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں، اور ان کے اثرات آئندہ دنوں میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔