ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں 10 سے 15 فیصد تک اضافے کا خدشہ

ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں 10 سے 15 فیصد تک اضافے کا خدشہ

ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ترقیاتی بجٹ پر بھی پڑنے لگا ہے، جس کی وجہ سے سرکاری منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 
سرکاری دستاویزات اور محکمہ خزانہ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق، تعمیراتی مٹیریل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی لاگت میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، دسمبر 2025 کے مقابلے میں اب تک تعمیراتی مٹیریل کی قیمتوں میں 10 سے 18 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کے سبب ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر مٹیریل کی قیمتوں پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، بٹومین اور دیگر فیول بیسڈ آئٹمز کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ ریت، بجری اور اینٹوں کی قیمتیں 12 سے 18 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ اسی طرح، سیمنٹ اور سریا کی قیمتوں میں 8 سے 12 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافے سڑکوں اور انفراسٹرکچر منصوبوں کو سب سے زیادہ متاثر کریں گے، اور جاری ترقیاتی سکیموں کی تکمیل کے لئے اضافی فنڈز درکار ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں منصوبوں کی لاگت کا جائزہ لیا جائے گا اور پنجاب کے مختلف محکموں کو اضافی وسائل فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو ممکن ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ میں مزید فنڈز مختص کرنا پڑیں۔