طالبان کی میڈیا اور لباس سے متعلق پابندیاں سخت، اخلاقی نگرانی میں اضافہ

کابل(آئی این پی)افغانستان کے دوسرے بڑے شہر ہرات میں طالبان نے عام لباس اور میڈیا سرگرمیوں پر پابندیاں مزید سخت کر دیں، جس کے تحت عوامی مقامات، جامعات اور میڈیا کے شعبے میں اخلاقی نگرانی کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا رہا ہے۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق  یہ اقدامات حالیہ مہینوں میں مغربی شہر ہرات میں کی جانے والی نمایاں ترین کارروائیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جن پر مقامی شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حتی کہ بعض مذہبی علما کی جانب سے بھی تنقید کی جا رہی ہے۔افغان میڈیا کے بیرونِ ملک قائم اداروں نے 16 جنوری کو ایک ویڈیو وسیع پیمانے پر نشر کی جس میں مسلح طالبان ہرات کے ایک ہوٹل کے ہال میں داخل ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں ہرات یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میڈیسن کے فارغ التحصیل طلبہ اپنی گریجویشن کی تقریب میں شامل ہونے کے لیے موجود تھے۔ویڈیو میں افغان طالبان اہلکاروں کو متعدد گریجویٹس کو زبردستی اپنی ٹائیاں اترواتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ان کا مقف تھا کہ ٹائی غیر اسلامی لباس ہے۔اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور بعض مذہبی شخصیات نے بھی اس کارروائی کو توہین آمیز اور غیر ضروری قرار دیا۔بعد ازاں طالبان حکام نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ترجمان سیف الاسلام خیبر نے کہا کہ ٹائی پہننے پر کئی برسوں سے پابندی عائد ہے