بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا رات گئے لاہور پہنچ گئے

بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا رات گئے لاہور پہنچ گئے

لاہور: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری کی اطلاعات کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی رات گئے لاہور پہنچ گئے۔

 انہوں نے لاہور کے قریب موٹروے پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو گرفتار کیا جا رہا ہے، جس پر وہ خود لاہور روانہ ہوئے ہیں۔سہیل آفریدی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ نورین آپا کو لینے لاہور جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقتور لوگ پاکستان کو غلط سمت میں لے جا رہے ہیں اور سابق وزیراعظم کے خاندان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ان کے گھر پر بھی چھاپے مارے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سفید کپڑوں میں ملبوس افراد بینرز پھاڑ رہے ہیں اور سیاسی کنونشن میں داخل ہو رہے ہیں۔سہیل آفریدی نے مزید الزام عائد کیا کہ چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے جبکہ سادہ لباس میں موجود افراد نے ایک صوبائی وزیر کو اغوا کرنے کی بھی کوشش کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین اور قانون کے محافظ ہیں اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوششیں نہیں ہونی چاہئیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے پیغام میں 27 ستمبر کے احتجاج کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس روز پورا پاکستان سڑکوں پر نکلے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

دوسری جانب لاہور میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر 3 ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔نورین اور عظمیٰ کی حراست ایک روز قبل علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے علیمہ خان کو بھی 30 روز کے لیے ایم پی او کے تحت حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔یوں 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج سے قبل پی ٹی آئی قیادت اور بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ سے متعلق گرفتاریوں اور حراستوں کا سلسلہ سیاسی منظرنامے میں اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔