امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فضائی حملوں کا ایک نیا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی ان صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے کی گئیں جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے تازہ کارروائیوں کے دوران ایران کے متعدد اہم عسکری مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری تنصیبات، میزائل اور ڈرون لانچ کرنے والی سائٹس، جبکہ فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں بحری نقل و حمل کو محفوظ بنانا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بدستور جاری ہے۔ سینٹکام کے مطابق مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریباً 900 تجارتی بحری جہازوں اور 450 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ منتقلی میں معاونت فراہم کی ہے۔
سینٹکام نے خبردار کیا کہ امریکی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری بحری جہازوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران ماضی میں امریکی فوجی کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتا رہا ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی اور سمندری سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔