کاشف بٹ
کیا ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں معصوم بچوں کی چیخیں بھی ہمارے ضمیر کو بیدار نہیں کرتیں؟ جہاں کمسن بچیاں درندگی کا نشانہ بنتی ہیں، خواتین کی عزت پامال ہوتی ہے اور ہر نئے واقعے کے بعد چند روز شور مچتا ہے،مذمت کی جاتی ہے، بیانات جاری ہوتے ہیں اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے؟ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ کیا معاشرہ واقعی درندوں سے بھر گیا ہے، کیا قانون کا خوف ختم ہو چکا ہے، یا ہمارے نظام میں موجود ایسی خامیاں جرائم پیشہ عناصر کو بار بار سر اٹھانے کا موقع فراہم کر رہی ہیں؟سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کی سرگرمیوں میں کمی یا تبدیلی کے حوالے سے سامنے آنے والے سوالات نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جرائم کے خلاف کارروائیوں کی موجودہ صورت حال کیا ہے، بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کا مؤثر نظام کہاں ہے؟ تاہم، سی سی ڈی کی سرگرمیوں میں کمی اور جنسی جرائم میں اضافے کے درمیان تعلق قائم کرنے کے لیے مستند اعدادوشمار، مقدمات کے ریکارڈ اور متعلقہ حکام کے مؤقف کی روشنی میں جائزہ لینا ضروری ہے۔لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم کا ہر واقعہ پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ جرم کس نے کیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ جرم کی روک تھام کیوں نہ ہو سکی، متاثرہ خاندان کو بروقت تحفظ کیوں نہ ملا، تفتیش میں کیا رکاوٹیں آئیں اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر کیوں ہوئی؟پاکستان میں بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے لیے قوانین موجود ہیں۔ تعزیراتِ پاکستان میں زیادتی اور متعلقہ جرائم کی سزائیں مقرر ہیں، جبکہ بچوں کے تحفظ کے لیے بھی قانونی دفعات موجود ہیں۔ اس کے باوجود اگر سنگین جرائم سامنے آتے رہیں تو سوال قانون کی موجودگی سے زیادہ اس کے مؤثر نفاذ کا ہے۔قانون کی کتاب میں سزا لکھ دینا کافی نہیں؛ سزا تک پہنچنے کا پورا نظام مضبوط ہونا چاہیے۔ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، متاثرہ فرد کے بیان کو سنجیدگی سے نہ لینا، شواہد محفوظ کرنے میں غفلت، ناقص تفتیش، گواہوں پر دباؤ، کمزور استغاثہ اور مقدمات کے فیصلوں میں طویل تاخیر انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔جب کسی مقدمے میں شواہد ضائع ہو جائیں، تفتیش درست سمت میں نہ ہو یا گواہ خوف کے باعث پیچھے ہٹ جائیں تو متاثرہ خاندان صرف قانونی کارروائی کے چکر کاٹتا رہ جاتا ہے۔ دوسری جانب، اگر ملزم کے خلاف الزام ثابت کرنے کے لیے درکار قانونی تقاضے پورے نہ ہوں تو مقدمہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ یوں اصل مجرم کے سزا سے بچ نکلنے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے اور تفتیشی نظام کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتاریوں کو کامیابی کا واحد پیمانہ نہ بنائیں۔ اصل کامیابی شفاف تفتیش، مضبوط شواہد، بروقت عدالتی کارروائی اور قانون کے مطابق سزا یا بریت کی صورت میں انصاف کی فراہمی ہے۔کسی بھی سنگین جرم کے بعد یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ مسئلہ قانون میں ہے یا قانون پر عمل درآمد میں۔ ہر خامی کو قانون کی کمزوری قرار دینا درست نہیں، لیکن قانونی طریق? کار میں موجود رکاوٹوں اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی بھی ناگزیر ہے۔متاثرہ بچوں اور خواتین کے لیے ایسا نظام ہونا چاہیے جہاں شکایت درج کرانا مشکل نہ ہو، بیان لیتے وقت عزتِ نفس اور ذہنی کیفیت کا خیال رکھا جائے، شناخت خفیہ رکھی جائے اور بار بار بیان دینے یا غیر ضروری سوالات کے ذریعے متاثرہ فرد کو مزید اذیت سے بچایا جائے۔ بچوں کے معاملات میں تربیت یافتہ تفتیش کاروں، ماہرین اور متعلقہ تحفظ کے اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے۔اسی طرح طبی اور فرانزک شواہد بروقت جمع کرنا، ان کا ریکارڈ محفوظ رکھنا، ڈیجیٹل شواہد کی قانونی حیثیت برقرار رکھنا اور گواہوں کو تحفظ دینا تفتیش کے بنیادی تقاضے ہیں۔ اگر یہ مراحل کمزور ہوں تو عدالت میں مقدمہ ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ مقدمات کے طویل دورانیے کا ہے۔ انصاف میں تاخیر صرف متاثرہ خاندان کو تھکاتی نہیں بلکہ گواہوں کے پیچھے ہٹنے، شواہد کے کمزور پڑنے اور فریقین پر دباؤ بڑھنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے مقدمات کی سماعت میں قانونی تقاضوں کے مطابق ترجیح، مؤثر نگرانی اور غیر ضروری تاخیر کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔
قانون کا خوف صرف سخت سزا کے اعلان سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس یقین سے پیدا ہوتا ہے کہ جرم کرنے والا پکڑا جائے گا، تفتیش شفاف ہوگی اور مقدمہ قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچے گا , ایک سوال یہ بھی ہے کہ ہم اکثر ہر برائی کی ذمہ داری پولیس، حکومت اور عدالتوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن کیا معاشرہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے؟ کیا ہم بچوں کو محفوظ و غیر محفوظ رویوں کی پہچان سکھاتے ہیں؟ کیا والدین بچوں کی بات توجہ سے سنتے ہیں؟ کیا تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے واضح اصول موجود ہیں؟ اور کیا ہم اپنے اردگرد کسی مشتبہ رویے یا بچے کی پریشانی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں؟جنسی جرائم کے خلاف جنگ صرف پولیس اسٹیشن یا عدالت میں نہیں لڑی جاتی۔ اس کی بنیاد گھر، اسکول، محلے اور سماجی تربیت میں بھی ہوتی ہے۔ بچوں کو یہ اعتماد دینا ضروری ہے کہ وہ کسی نامناسب لمس، دھمکی یا بدسلوکی کے بارے میں والدین یا کسی قابلِ اعتماد بالغ کو بلا خوف بتا سکتے ہیں۔ انہیں یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ اگر کوئی شخص انہیں ڈرائے، خاموش رہنے پر مجبور کرے یا کسی راز کے نام پر نقصان پہنچائے تو وہ فوراً مدد طلب کریں۔لیکن بچوں کی حفاظت کے نام پر سارا بوجھ والدین یا متاثرہ فرد پر ڈال دینا بھی غلط ہے۔ جرم کی ذمہ داری مجرم پر ہوتی ہے۔ ریاست، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور خاندانوں کو مل کر ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں شکایت کرنے والے کو بدنامی، دھمکی یا الزام تراشی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔معاشرتی بے حسی کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی واقعے کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر متاثرہ بچے یا خاتون کی شناخت، تصاویر اور غیر مصدقہ تفصیلات پھیلانا شروع کر دی جاتی ہیں۔ یوں مجرم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے بعض لوگ متاثرہ فرد کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ کسی بھی ذمہ دار معاشرے میں متاثرہ فرد کی شناخت کا تحفظ، اس کے خاندان کی عزت اور انصاف کے حصول میں تعاون بنیادی اصول ہونے چاہییں۔ دوسری جانب جھوٹے الزام کا امکان بھی حقیقت ہے، مگر ہر شکایت کو جھوٹا سمجھنا بھی جرم سے کم نہیں
اس موضوع کا ایک حساس اور اہم پہلو ذاتی دشمنی، انتقام، خاندانی تنازعات یا دیگر اختلافات کی بنیاد پر کسی شخص کو سنگین مقدمے میں پھنسانے کی کوشش ہے۔ یہ امکان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض معاملات میں جنسی زیادتی جیسے سنگین الزام کو کسی مخالف کو بدنام کرنے، قانونی الجھنوں میں پھنسانے یا اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر کوئی شخص جان بوجھ کر جھوٹا الزام لگاتا ہے تو اس سے نہ صرف کسی بے گناہ کی عزت، آزادی اور خاندان متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ حقیقی متاثرین کے لیے بھی انصاف کا راستہ مشکل بن سکتا
ہے۔ ایسے معاملات میں بھی شواہد کی بنیاد پر غیر جانب دارانہ تفتیش اور قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔تاہم، محض الزام لگنے یا مقدمہ درج ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ شکایت جھوٹی ہے۔ اسی طرح صرف ایف آئی آر درج ہونے سے ملزم مجرم ثابت نہیں ہو جاتا۔ ہر معاملے میں حقائق، دستیاب شواہد، گواہوں کے بیانات اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں فیصلہ ہونا چاہیے۔یہاں پولیس کی ذمہ داری دوہری ہو جاتی ہے: حقیقی متاثرہ فرد کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنا، اور کسی بے گناہ کو بدنیتی پر مبنی الزام کی بنیاد پر ناانصافی سے بچانا۔ تفتیش میں نہ کسی شکایت کنندہ کو محض شبہے کی بنیاد پر جھوٹا قرار دیا جائے اور نہ کسی ملزم کو دباؤ یا عوامی جذبات کے باعث پہلے ہی مجرم سمجھ لیا جائے۔
انصاف کا مطلب صرف مجرم کو سزا دینا نہیں، بلکہ بے گناہ کو سزا سے بچانا بھی ہے۔اب وقت ہے کہ ریاست، قانون اور معاشرہ اپنی ذمہ داری قبول کریں
یہ معاملہ محض کسی ایک محکمے کی کارکردگی کا نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ترجیحات کا امتحان ہے۔ اگر معصوم بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام موجود نہیں تو اسے مضبوط بنانا ہوگا۔ اگر تفتیش میں خامیاں ہیں تو انہیں دور کرنا ہوگا۔ اگر عدالتوں میں مقدمات غیر ضروری تاخیر کا شکار ہوتے ہیں تو قانونی تقاضوں کے مطابق اس تاخیر کو کم کرنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر معاشرہ متاثرین کو خاموش کراتا ہے تو اس رویے کو بدلنا ہوگا۔ اور اگر کوئی شخص دشمنی کی بنیاد پر جھوٹے الزام کا سہارا لیتا ہے تو اس پہلو کی بھی قانون کے مطابق چھان بین ہونی چاہیے۔سوال یہ نہیں کہ ہم کتنے افسوس ناک بیانات جاری کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کسی محکمے کا نام کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ شہریوں کو تحفظ کتنا حاصل ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کتنے ملزمان گرفتار ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ تفتیش کتنی شفاف، انصاف کتنا بروقت اور نظام کتنا قابلِ اعتماد ہے۔
معصوم بچوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری، خواتین کی سلامتی معاشرے کا فرض، شفاف تفتیش قانون کا تقاضا اور بے گناہ کو انصاف دینا نظامِ عدل کی بنیاد ہے۔اگر ہم واقعی ایک مہذب معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جواب دہ ہونا ہوگا، قانون کی خامیوں اور نفاذ کی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا، والدین اور تعلیمی اداروں کو بچوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور معاشرے کو متاثرین کی عزت و شناخت کا احترام سیکھنا ہوگا۔
ورنہ ہر نئے واقعے کے بعد چند دن کا شور، چند مذمتی بیانات اور چند گرفتاریوں کی خبریں تو سامنے آتی رہیں گی، مگر بنیادی سوال اپنی جگہ کھڑا رہے گا:آخر کب ہمارے بچے خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں گے؟ کب خواتین کو حقیقی تحفظ حاصل ہوگا؟ اور کب ایسا نظام قائم ہوگا جہاں مجرم کو قانون کا خوف، متاثرہ فرد کو انصاف کی امید اور بے گناہ کو تحفظ حاصل ہو؟یہ سوال صرف حکمرانوں سے نہیں، پولیس اور عدلیہ سے بھی ہے، تعلیمی اداروں سے بھی ہے اور ہم سب سے بھی۔ کیونکہ محفوظ معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بنتا؛ اس کے لیے مؤثر عمل درآمد، مضبوط ادارے، زندہ ضمیر اور اجتماعی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔