راولپنڈی: تحریک انصاف کے کارکن ماجد ستی قتل کیس میں سزا پانے والے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما فرخ تاجی کھوکھر نے اپنے خلاف سنائے گئے فیصلے کو راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر دیا ہے۔
فرخ تاجی کھوکھر نے سزا معطل کرنے اور ضمانت پر رہائی کی درخواست بھی دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں حقائق کے برعکس سزا سنائی گئی اور وقوعہ کے وقت وہ جائے وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھے۔راولپنڈی ہائی کورٹ بینچ نے اپیل اور ضمانت کی دونوں درخواستیں ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ عدالت سے ایک ہفتے کے اندر مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔عدالت نے مقدمے کے مدعی اور سرکاری پراسیکیوٹر کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا ہے۔درخواست کی سماعت راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس صداقت علی خان نے کی، جنہوں نے ریکارڈ طلب کرنے کے ساتھ فریقین کو مقررہ تاریخ پر پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی۔واضح رہے کہ فرخ تاجی کھوکھر کو تحریک انصاف کے کارکن ماجد ستی قتل کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزا سنائی گئی تھی، جس کے خلاف اب انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ عدالت آئندہ سماعت میں مقدمے کے ریکارڈ اور فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید کارروائی کرے گی۔