معاشی استحکام بحال، جی ڈی پی نمو کا ہدف برقرار،مشرق وسطیٰ کی جنگ معیشت کیلئے خطرہ ،سٹیٹ بینک
لاہور(خصوصی رپورٹ)سٹیٹ بینک نے مالی سال 2025-26ء کی ششماہی رپورٹ جاری کرتے ہوئے ملکی معیشت میں مجموعی استحکام کی بحالی کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی تبدیلیوں اور حالیہ سیلابی اثرات کے باوجود پاکستان کی میکرو اکنامک صورتحال میں بہتری آئی جبکہ آئی ایم ایف پروگرام، مالیاتی نظم و ضبط اور محتاط مانیٹری پالیسی نے معاشی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی پاکستان کی معیشت کیلئے نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے جن کے باعث بیرونی تجارت، ترسیلات زر اور مہنگائی کے دبا ئو میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق عالمی منڈی میں تیل اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ملکی در آمدی بل کو بڑھا سکتا ہے جس کے اثرات مالی سال 2026-27ء کے دوران افراطِ زر پر نمایاں ہونگے۔بجلی کے سرکاری نرخوں میں کمی اور طلب میں اعتدال کے باعث پہلی ششماہی میں مہنگائی کی اوسط شرح 5.2 فیصد رہی، تاہم عالمی پٹرولیم قیمتوں میں ممکنہ اضافے کیباعث مالی سال 27ء کے بیشتر حصے میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔ سٹیٹ بینک نے مالی سال 26ء کے لیے حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کیدرمیان رہنے کی پیش گوئی برقرار رکھی ہے تاہم رپورٹ میں متعدد ساختی چیلنجز کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ بر آمدات میں سست روی، نجی سرمایہ کاری کی کمزور رفتار اور ٹیکس وصولیوں میں مسلسل کمی کو معاشی استحکام کیلئے اہم خطرات قرار دیا گیا ہے،اسکے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث زرعی شعبے اور مجموعی معیشت کو محدود مگر قابلِ توجہ نقصان کا سامنا رہا۔سٹیٹ بینک نے کہا کہ ایکسچینج مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداریوں کے ذریعے بیرونی ادائیگیوں کے دبا ئو کو کم کرنے میں مدد ملی جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے مضبوط ترسیلات زر نے جاری کھاتے کے خسارے کو معتدل سطح پر برقرار رکھا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 26ء میں جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو برقرار رکھنے سے مالیاتی توازن برقرار رہاجبکہ سودی ادائیگیوں میں کمی کے باعث حکومت کا بنیادی مالیاتی توازن 2002ء کے بعد پہلی بار سرپلس میں آیا۔