شرافت کا زندہ بت۔۔ مارینا ابرامووچ

 امجد علی
 تاریخی کے کتاب کے اوراق پلٹتے پلٹتے ایک عجب واقعہ سامنے آیا ایک عورت نے سٹنٹ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ بہت منفرد سٹنٹ تھا یہ پرفارمینس آرٹ کی دنیا کا چونکا دینا والا تجربہ تھا۔ اٹلی کے شہر نیپل میں پرفارمینس آرٹسٹ میڈم مارینا ابرامووچ نے تجربے کرتے کرتے ایک روز اپنے حوصلے،  انسانی آزادی اور معاشرتی جبلت کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ پھر اس کے تجربے نے انسان کے چہرے پر چڑھی تہذیب کی ملمع کاری کو نوچ کر رکھ دیا۔
وہ ایک ہال میں ساکت کھڑی تھی۔ بالکل بے حس، بے حرکت، زندہ لاش، جیسے روح کسی جسم سے نکل چکی ہو۔ سامنے ایک میز پر چند اشیاء￿  رکھی تھیں, پھول، کانٹے، چھری، پسٹل، قلم، لپ اسٹک، زنجیر، اور بہت کچھ (بہتر چیزیں) معمولی چیزیں۔ اس عورت نے اعلان کیا۔میں چھ گھنٹے تک محض ایک شے رہوں گی۔تم جو چاہو میرے ساتھ کر سکتے ہو۔میں مزاحمت نہیں کروں گی۔سب کچھ کی ذمہ دار میں خود ہوں
یہ اعلان نہیں تھا انسانی نفسیات کے جنگل میں پھینکا گیا ایک پتھر تھا۔ جیسے بند جانوروں کے ریوڑ کا دروازہ کھول دیا گیا ہو۔
ابتدا میں حیرت تھی لوگ جھجکے۔ کسی نے پھول پیش کیا، کسی نے مسکراہٹ اور کسی نے اس کے بدن پر کچھ لکھا پھر ہجوم نے محسوس کیا کہ سامنے کھڑی عورت ردعمل نہیں دے رہی۔ یہی لمحہ تھا جب انسان کے اندر چھپا درندہ آہستہ آہستہ پنجے نکالنے لگا۔ کسی نے اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔ کسی نے کانٹوں سے چہرہ زخمی کیا۔ کچھ لوگ اس کے جسم پر بہتے خون کو انگلیوں سے چھو کر زبان پر لگا کر چکھتے رہے، جیسے انسان نہیں کوئی شکار ہو۔ کسی نے اس کے جسم کو ہوس بھری بے ہودہ نظروں سے پڑھنے کی کوشش کی۔ پھر ایک شخص آگے بڑھا… اس نے پستول اس کی کنپٹی پر رکھ دی۔ ہال میں سناٹا  چھا گیا۔ وہ لمحہ شاید انسانیت کی پیشانی پر لکھی سب سے خوفناک کہانی تھا۔ مگر اسی ہجوم میں سے ایک نیک صفت، زندہ دل بہادر آدمی نے بجلی کی طرح کوند کر اس شخص کو روکا ورنہ شاید ایک فنکارہ کا خون بھی اسی تجربے کا حصہ بن جاتا۔
یہ محض ایک آرٹ پرفارمنس نہیں تھی۔ یہ تہذیب کے تابوت پر رکھا گیا آئینہ تھا۔ اس تجربے نے ثابت کیا کہ انسان کو جب مکمل اختیار اور آزادی ملتی ہے تو وہ اکثر تہذیب وغیرہ کو بھول کر ایک بپھرے جانور کی طرح جھپٹتا ہے۔
ہم جنہیں مہذب، تعلیم یافتہ، نرم گفتار اور باوقار سمجھتے ہیں، ان کے اندر بھی کہیں نہ کہیں ایک جنگل (جانوروں اور درندوں سے بھرا) موجود ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قانون، خوف، معاشرتی دباؤ اور جواب دہی کی زنجیریں اس جنگلی وحشت کو خاموش رکھتی ہیں۔ جونہی یہ زنجیریں ڈھیلی پڑتی ہیں، انسان کے اندر کا درندہ نوکیلے دانتوں سے جست لگانے کو تیار رہتا ہے۔
تاریخ کے اوراق ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔
جنگیں ہوں، قتل عام ہوں، اجتماعی ظلم ہوں یا کردار کشی، اکثر یہ سب مہذب چہروں والے لوگوں نے ہی کیے۔ درندے صرف جنگلوں میں نہیں ہوتے، بعض اوقات وہ قیمتی سوٹ پہن کر، اعلیٰ عہدوں پر بیٹھ کر، شائستگی کے لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اسی ہجوم میں ایک شخص ایسا بھی تھا جس نے آگے بڑھ کر پستول روک لی۔ گویا انسانیت مکمل طور پر مری نہیں تھی۔ انسانی معاشرے اور ہجوم کی بنت کا فائبر اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس میں ہر نوع کے اوصاف و خصائص کے گروہ ،شامل ہیں بلکل ویسے ہی جیسے جنگل میں چلنے والے اڑنے والے اور رینگنے والے، آف نہ کرنے والے، چیر پھاڑ والے اور خود کے لیے مزاحمت میں کرنے مرنے والے ہر نسل اور ورائٹی کے جانور۔ کہ گھپ اندھیرے میں بھی کہیں نہ کہیں کچھ چراغ باقی رہتے ہیں۔ 
زندگی ایک گلستان کی مثل ہے۔ جہاں پھول نظر تو زیادہ آتے ہیں مگر ہوتے کم ہیں، پتے زیادہ، اور کانٹے سب سے زیادہ۔ دور سے باغ  پودوں کی ہریالی اور پھولوں کی رنگینی کی بدولت  خوبصورت دکھائی دیتا ہے، مگر قریب جا کر معلوم ہوتا ہے کہ خوشبودار پھولوں سے کہیں زیادہ نوکیلے کانٹے موجود ہوتے ہیں۔ اسی لیے اچھے انسان ہمیشہ قلیل رہے ہیں۔ اکثریت صرف تماشائی ہوتی ہے۔ وہ ظلم دیکھتی ہے، سہتی ہے، مگر بولتی نہیں۔
ان کے ہونٹ سیے ہوتے ہیں، آنکھیں حیران، اور ضمیر خاموش۔
یہی خاموش لوگ ہر دور کے سب سے بڑے شریک جرم ہوتے ہیں۔
آج کے معاشرے میں بھی کتنے لوگ ایسے ہیں جو شرافت کا بت بنے کھڑے ہیں۔ وہ ظلم سہتے ہیں، کردار کشی برداشت کرتے ہیں، روحانی اذیتوں سے گزرتے ہیں، مگر ایرانی رویے کے برعکس خاموش رہتے ہیں۔ معاشرتی دباؤ، خاندان، رشتے، روایات، خوف، نوکری، عزت، ہر زنجیر ان کے لب سی دیتی ہے۔ پھر درندے انہیں اپنی کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ شرافت اگر خودداری اور جری جذبوں سے خالی ہو جائے تو عبادت نہیں، خودکشی بن جاتی ہے۔

تصویر کا یہ رخ صرف ایک فرد، ایک عورت یا ایک کمزور انسان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہی منظر ایک بہت بڑے کینوس پر قوموں، ریاستوں اور تہذیبوں کی شکل میں بھی دہرایا جاتا ہے۔
وہاں بھی ایک طاقتور، خود کو مہذب کہلوانے والا ظالم، اپنی افواج، بارود، میزائلوں اور معاشی قوت کے ساتھ کسی کمزور ملک پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ پھر شہر جلتے ہیں، سکول کے بچے ملبوں میں دفن ہوتے ہیں، مائیں بین کرتی ہیں، نسلیں اجڑتی ہیں اور تہذیبیں راکھ میں بدل جاتی ہیں۔ مگر دنیا،۔۔ دنیا بہانوں کی بیساکھیوں کے سہارے کھڑی رہتی ہے جیسے اس ہال میں تماشائی ہجوم کھڑا تھا۔ ان کے من پسند سفارتی بے ضرر جملے میڈیا پر چل رہے ہوتے ہیں
کوئی قراردادوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔
کوئی سفارتی توازن کا بہانہ بناتا ہے۔
کوئی معاشی مفادات کی زنجیر میں بندھا رہتا ہے۔

اور کوئی دفاعی اتحادوں کی مجبوریوں کا رونا روتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری دنیا نے انسانیت کو ایک اسٹیج پر کھڑا کر رکھا ہو اور کہ رہا ہو۔
"تم ایک اوبجیکٹ ہو… ہم جو چاہیں تمہارے ساتھ کریں گے۔"
پھر طاقتور ملک، عالمی قانون کی کتاب ہاتھ میں اٹھا کر خود ہی اس کے اوراق پھاڑنے لگتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے لیکچر بھی دیتے ہیں اور انسانوں کے قبرستان بھی آباد کرتے ہیں۔
وہ امن کے انعامات بھی بانٹتے ہیں اور جنگوں کے شعلے بھی بھڑکاتے ہیں۔
خود ان کے لبوں پر تہذیب کے الفاظ ہوتے ہیں مگر ان کی ٹیموں کے ہاتھ بارود سے لدھے ہوتے ہیں۔ اور سب سے خوفناک کردار شاید خاموش تماشائیوں کا ہوتا ہے۔ وہ ممالک جو ظلم دیکھتے ہیں، جانتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ ایک قوم کا خون بہایا جا رہا ہے، ایک تہذیب مٹائی جا رہی ہے، مگر پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔
ان کی خاموشی محض بے بسی نہیں ہوتی، اکثر یہ مفادات کی دبیز چادر ہوتی ہے۔ انہیں اپنے تجارتی راستے عزیز ہوتے ہیں، اپنے اسلحہ معاہدے عزیز ہوتے ہیں، اپنی عالمی رفاقتیں عزیز ہوتی ہیں۔ چنانچہ وہ ظالم کے ہاتھ نہیں روکتے، صرف اپنے ضمیر سہلا کر آنکھوں پر سفارتی پٹیاں باندھ لیتے ہیں۔

بلاشبہ برداشت ایک عظیم وصف ہے، مگر بے زبان ڑندہ لاش بن جانا عظمت نہیں۔ دنیا خاموش، بے زبان انسانوں کو معاف نہیں کرتی، انہیں استعمال کرتی ہے۔ زندگی کو سانس لینے کے لیے صبر چاہیے، ظرف چاہیے، تحمل چاہیے۔ لیکن اپنے وجود کو اتنا بے بس کر دینا کہ ہر شخص آپ پر اپنی خواہش، غصہ، انا یا ہوس آزمانے لگے، یہ شرافت نہیں، اپنے آپ پر ظلم ہے۔
Marina Abramovic نے تو یہ سب ایک تجربے کے لیے کیا تھا، مگر ہمارے معاشرے میں بے شمار مرد عورتیں، بچے اور بچیاں  روز اسی قسم کے تجربہ سے گذرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں چھ گھنٹے کی پرفارمنس تھی، یہاں پوری زندگیاں گزر جاتی ہیں۔
اس لیے گلی محلہ ہو یا ملک خود کو بت مت بنائیے۔ اپنی ذات کو بے زبان دیوار نہ بننے دیجئیے، اپنے دفاع میں بولیے۔ اپنے وقار کے محافظ خود بنیے۔
کیونکہ کچھ درندے ایسے ہوتے ہیں جو اس طرح دبوچتے ہیں کہ چیخنے کو ایک سانس کا وقفہ بھی نہیں دیتے۔ شرافت اچھی ہے۔ مگر شرافت اگر خودداری کے بغیر ہو طاقت کے بغیر ہو تو پھر وہ انسان نہیں، ایک خاموش بت، زندہ لاش بن جاتی ہے
اور بے بس بتوں پر لوگ ہمیشہ اپنی مرضی کے زخم لکھتے ہیں۔