اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ایرانی حکومت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران سے جنگ چھیڑنا "شیر کی دم سے کھیلنے" کے مترادف ہے، اور اس اقدام کا خمیازہ اسرائیل کو ضرور بھگتنا پڑے گا۔
ایرانی حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ "صیہونی ناجائز ریاست سے طاقت کی زبان کے سوا کسی اور زبان میں بات نہیں کی جا سکتی"۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ ملکی خودمختاری پر حملہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے، اور اسرائیل کو اس کی جارحیت پر پشیمان کرنے کے لیے ہر قسم کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ایران کا کہنا ہے کہ اس نے دفاعی، سیاسی اور قانونی ردعمل کی تیاری شروع کر دی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا:"اسلامی جمہوریہ ایران صیہونیوں کی نیندیں حرام کر دے گا، اور اپنے ہر شہید کا انتقام ضرور لے گا۔"ایرانی حکومت نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے:"یہ ایک ملت کی آواز ہے جو دنیا کو گواہ بنا رہی ہے کہ ہم نے جنگ کی ابتدا نہیں کی، لیکن اس کا اختتام ایران کے ہاتھوں لکھا جائے گا۔"
حکومت کا یہ سخت مؤقف اس پس منظر میں آیا ہے جب اسرائیلی حملوں میں ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور اہم عسکری و سائنسی شخصیات کی شہادت کی تصدیق بھی کی جا چکی ہے۔ماہرین کے مطابق ایران کا تازہ بیان واضح اشارہ ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی جلد کسی بڑے تصادم کی صورت اختیار کر سکتی ہے، اگر عالمی برادری نے فوری طور پر مداخلت نہ کی۔