کراس سبسڈی کی وجہ سےصنعتیں بند ہو رہی ہیں:گوہر اعجاز

کراس سبسڈی کی وجہ سےصنعتیں بند ہو رہی ہیں:گوہر اعجاز

سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت و صنعت اور چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے صنعتوں کے لیے مہنگی بجلی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

گوہر اعجاز نے بتایا کہ نیپرا کی سماعت میں بتایا گیا کہ اگلے سال 629 ارب روپے کی سبسڈی درکار ہوگی، جس میں سے حکومت صرف 248 ارب روپے فراہم کرے گی اور باقی 381 ارب روپے کراس سبسڈی کے ذریعے ادا کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کراس سبسڈی کی وجہ سے صنعتیں دیگر صارفین کے لیے سبسڈی فراہم کر رہی ہیں، جس سے بجلی کی قیمت صنعتوں کے لیے مہنگی ہو رہی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ ملک کی اہم صنعتیں بند ہو جائیں۔

گوہر اعجاز نے مزید کہا کہ پاور سیکٹر کی بد انتظامی اور نااہلی کے باوجود اگر صنعتوں پر کراس سبسڈی کا بوجھ نہ ہوتا تو انڈسٹریل ٹیرف آج بھی 9 سینٹ ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صنعتیں لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں، اور اگر صنعتیں بند ہوئیں تو روزگار کا مسئلہ سنگین ہو جائے گا۔