افغانستان میں سچ بولنا جرم بن گیا، خاتون صحافی نذیرہ رشیدی گرفتار کر لیا گیا

افغانستان میں سچ بولنا جرم بن گیا، خاتون صحافی نذیرہ رشیدی گرفتار کر لیا گیا

افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت آزادیٔ صحافت کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صوبہ قندوز سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی نذیرہ رشیدی کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔دی افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ نذیرہ رشیدی کو منگل 6 جنوری کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق صحافی گزشتہ چار دنوں سے طالبان کی تحویل میں ہیں، تاہم ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔افغان میڈیا پروٹیکشن آرگنائزیشن کے مطابق نذیرہ رشیدی کو کسی قانونی جواز کے بغیر گرفتار کیا گیا۔ تنظیم نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ خاتون صحافی کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور گرفتاری کی وجوہات واضح کی جائیں۔

رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کے تحت خواتین صحافیوں کو شدید پابندیوں، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ افغان میڈیا پروٹیکشن آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 93 فیصد خواتین صحافی خوف اور دباؤ کے ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ 55 فیصد خواتین صحافیوں کو براہِ راست دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔ مزید برآں، 32 فیصد سے زائد افغان خواتین صحافی سیکیورٹی خدشات اور پابندیوں کے باعث خفیہ طور پر آن لائن یا پرنٹ میڈیا میں کام کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (RSF) پہلے ہی افغانستان میں آزادیٔ صحافت کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ RSF کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں افغانستان آزادیٔ صحافت کے عالمی انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 175ویں نمبر پر آ گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 کے دوران افغانستان میں 12 میڈیا ادارے بند ہوئے جبکہ خواتین صحافیوں کی 80 فیصد نوکریاں ختم کر دی گئیں۔

صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں اور عالمی برادری کی خاموشی کے باعث افغانستان میں آزادیٔ اظہار اور آزاد صحافت شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔