حوثیوں کا اہم بندرگاہ پر قبضہ ، تیل کی عالمی سپلائی کو خطرہ

 یمن کے مخا شہر اور جزیرہ زقر پر قبضے سے جنگجو ئوں کی باب المندب پر گرفت 
صنعا، تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے اتحادی حوثی جنگجو ئوں نے جمعرات کو یمن کے اہم بندرگاہی شہر مخا کا کنٹرول سنبھال لیا جس سے عالمی توانائی کی ترسیل کو مزید خطرات لاحق ہوگئے۔یمنی حکومت کے چار فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ? احمر کے جنوبی دہانے اور دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ باب المندب آبنائے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی ، ذرائع نے بتایا کہ حوثی تزویراتی اہمیت کے حامل حنیش جزائر پر بھی حملے کر رہے ہیں،اے ایف پی کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں واقع سٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرہ زقر پر قبضہ کرلیا ہے۔دوسری جانب یمنی حکومت کی فوج اور اس کے اتحادی بحیرہ? احمر کے ساحل کے ساتھ جنوب کی جانب ذباب کی طرف منتقل ہورہے ہیں، جو آبنائے کے عین قریب واقع ہے اور اس کے سامنے پریم جزیرہ ہے،حکومتی فوجی ذرائع کے مطابق ذباب اور پریم جزیرے کا کنٹرول باب المندب پر گرفت حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔حوثی 28 مارچ کو اسرائیل پر حملے کے ساتھ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں شامل ہوئے تھے، تاہم جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے اور ستمبر میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حملے تیز کرنے سے پہلے وہ بڑی حد تک خاموش رہے۔دنیا کے سب سے بڑے تیل بر آمد کنندہ سعودی عرب نے بحیرہ? احمر کی بحری گزرگاہ کو اس وقت متبادل راستے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا جب ایران کے ساتھ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بند ہوگئی۔ چین کی ثالثی میں تعلقات میں بہتری کے باوجود سعودی عرب اور ایران طویل عرصے سے علاقائی حریف ہیں اور ایک دوسرے پر گہرا عدم اعتماد رکھتے ہیں۔سعودی عرب نے اپنی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے جواب میں یمن کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں،حوثیوں کے مطابق جمعرات کو ان حملوں کی تعداد 40 رہی،جبکہ سعودی سول ڈیفنس حکام نے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط میں 24 گھنٹوں کے دوران چوتھی مرتبہ ہنگامی انتباہ جاری کیاجہاں حوثی حملے کر رہے تھے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا سعودی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔سعودی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایران سے کہا ہے کہ وہ اپنے یمنی حوثی اتحادیوں کو لگام دے، تاکہ بحران کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے،ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی کہ پاکستان نے منگل کو تہران تک یہ پیغام پہنچایا تھا اور ایرانی جواب تھا کہ ایران حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا انصاراللہ یمن کی خودمختار تنظیم ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے ، نہ تو وہ کسی سے احکامات لیتی ہے اور نہ ہی کسی کی پراکسی ہے۔اگرچہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی تاہم وال سٹریٹ جرنل کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت وائٹ ہا ئوس کے اعلیٰ مشیروں نے نجی طور پر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ یہ تنازع ان کی صدارت کی باقی مدت تک، یعنی جنوری 2029 تک، جاری رہ سکتا ہے۔ ادھر امریکی میڈیا کے مطابق اردن کے موافق سلطی ایئربیس پر 2 روز قبل ہونے والے میزائل حملوں میں متعدد امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے،ایک A-10 تھنڈر بولٹ جنگی طیارہ ایرانی میزائلوں کی زد میں آیا جس سے طیارے کا ایک پر تباہ ہوگیا، تقریباً 8 ایف-15 جنگی طیاروں کو بھی معمولی نقصان پہنچا، تاہم انہیں مرمت کے بعد دوبارہ سروس میں شامل کرلیا گیا،قبل ازیں خبر سامنے آئی تھی کہ امریکی فوج نے اردن میں موافق سلطی ایئربیس سے ہیلی کاپٹر منتقل کرنا شروع کردئیے ،ایرانی میڈیا کے مطابق ان میں وہ ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جو امریکا کے خلاف منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کی جوابی کارروائی میں تباہ ہوئے تھے۔ایران میں میناب اور قشم کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بدستور متاثر ہے ،جمعرات کو جاری ہونے والے ابتدائی بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق، بدھ کو صرف سات بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ 10 دن کی اوسط کا نصف ہے۔ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث تیل بر آمدات شدید متاثر ہونے کے بعد تیل، گیس اور دیگر پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے غیر ملکی بحری جہازوں پر عائد 10 فیصد فریٹ (مال برداری) فیس کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے،یہ 10 فیصد کی کمی اضافی محصول پر کی گئی ہے، اس اضافی چارج نے تیل، گیس اور دیگر مائع مصنوعات کی نقل و حمل کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا، ایرانی حکام کی جانب سے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس چارج کی وصولی اْس وقت تک روک دی جائے جب تک حکومت ان مصنوعات کی فہرست کی منظوری اور اشاعت نہیں کر دیتی جن پر یہ اضافی فیس لاگو ہو گی۔عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 106ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت بھی 4.53 ڈالر اضافے سے 100.58 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ایرانی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی دفاعی صنعت مقامی بنیادوں پر قائم اور ایرانی نوجوانوں کی صلاحیتوں و علم پر مبنی ہے، اسے تباہ نہیں کیا جا سکتا،یہ آئندہ بھی پہلے سے زیادہ مضبوط، فعال، جدید اور ترقی یافتہ انداز میں اپنا سفر جاری رکھے گی۔