لاہور ہائیکورٹ: پب جی دوستی کے بعد پسند کی شادی کیس میں ملزم کی ضمانت درخواست پر پولیس کو نوٹس

لاہور ہائیکورٹ: پب جی دوستی کے بعد پسند کی شادی کیس میں ملزم کی ضمانت درخواست پر پولیس کو نوٹس

لاہور ہائیکورٹ میں ایک دلچسپ نوعیت کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں پب جی گیم کے ذریعے دوستی کے بعد پسند کی شادی کرنے والے نوجوان کے خلاف درج مبینہ اغوا کے کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست زیرِ غور آئی۔

سماعت جسٹس شہباز رضوی نے کی، جہاں ملزم عثمان کی جانب سے دائر درخواست ضمانت پر ابتدائی دلائل سنے گئے۔ عدالت نے کیس میں پیش رفت کے لیے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا۔درخواست گزار کے وکیل عدنان کلیاڑ ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے پب جی گیم کے ذریعے لڑکی سے دوستی کی، جو بعد ازاں باہمی رضامندی سے شادی پر منتج ہوئی۔ تاہم لڑکی کے اہلخانہ نے اس رشتے کو تسلیم کرنے کے بجائے ملزم کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروا دیا۔وکیل کے مطابق کیس میں شامل اغوا اور زیادتی کی دفعات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کے والدین نے مبینہ طور پر دباؤ ڈال کر لڑکی سے ملزم کے خلاف بیان دلوایا، جو اصل حقائق کے برعکس ہے۔

مزید بتایا گیا کہ درخواست گزار گزشتہ پانچ ماہ سے جیل میں ہے، اور مقدمے میں ابھی تک ٹرائل مکمل نہیں ہوا۔ اس بنیاد پر وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مکمل ریکارڈ اور جواب طلب کر لیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی گئی۔یہ مقدمہ سوشل میڈیا گیمز کے ذریعے ہونے والے تعلقات اور بعد ازاں پیدا ہونے والے قانونی تنازعات کی ایک اور مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے عدالتی اور عوامی حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔