پنجاب کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے لاہور میں پاکستان کی پہلی اربن الیکٹرک ٹرین، سپر اٹانومس ریپڈ ٹرانزٹ (SRT)، کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس جدید ٹرانسپورٹ نظام کا روڈ ٹیسٹ خود کیا اور اس کی مانیٹرنگ بھی کی، جس سے اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کا ثبوت ملتا ہے۔تفصیلات کے مطابق، وزیراعلیٰ مریم نواز نے علی ٹاؤن سے مسلم ٹاؤن تک SRT کے تجرباتی سفر میں شرکت کی۔ اس دوران، انہوں نے عام ٹریفک کے درمیان رننگ چیک کیا تاکہ ٹرین کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس موقع پر شہریوں نے بھی خوشی اور فخر کا اظہار کیا، کیونکہ یہ منصوبہ لاہور کی ٹرانسپورٹ سسٹم میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہے۔اس الیکٹرک ٹرین کی خصوصیات میں شامل ہیں کہ ایک بار مکمل چارج ہونے کے بعد یہ 40 کلومیٹر کا سفر طے کر سکتی ہے۔ ابتدا میں، یہ 3 بوگیوں کے ساتھ چلائی گئی، لیکن مستقبل میں 4 بوگیوں کا اضافہ ممکن ہے۔ ہر ٹرین میں 320 مسافروں کے لیے جگہ رکھی گئی ہے، جو کہ شہریوں کی بڑی تعداد کو سہولت فراہم کرے گا۔
رائیونڈ اور کینال روڈ پر لوگوں نے SRT کو دیکھ کر اپنی خوشی اور فخر کا اظہار کیا، اور کہا کہ یہ منصوبہ لاہور کی خوبصورتی اور جدیدیت میں ایک شاندار اضافہ ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام کے لیے اب ہر روز ایک نئی خوشخبری کا انتظار ہوتا ہے، اور یہ ٹرین لاہور کے بعد دیگر شہروں، جیسے گوجرانوالہ اور فیصل آباد، تک بھی پھیلائی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی وہاں بھی اس جدید ٹرانسپورٹ کی خوشخبری سنی جائے گی۔یہ منصوبہ نہ صرف لاہور کی نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنائے گا بلکہ شہر کی معیشت اور روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں بہتری لائے گا۔ سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی پر مبنی یہ الیکٹرک ٹرین ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو تیز، آرام دہ اور موثر سفر کی سہولت فراہم کرے گی۔