فیصل آباد میں سموگ کا راج، ایئر کوالٹی انڈیکس 440 تک جا پہنچا، شہریوں کی صحت خطرے میں

فیصل آباد میں سموگ کا راج، ایئر کوالٹی انڈیکس 440 تک جا پہنچا، شہریوں کی صحت خطرے میں

فیصل آباد شدید فضائی آلودگی اور سموگ کی لپیٹ میں آ گیا، جہاں فضائی معیار انتہائی خراب ہونے کے باعث شہریوں کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

فیصل آباد کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) خطرناک حد تک پہنچ گیا، جس کے باعث سانس اور دیگر موسمی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق رات کے اوقات میں فیصل آباد کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 292 ریکارڈ کیا گیا، جو فضائی آلودگی کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شدت مزید زیادہ رہی، جہاں جی سی یونیورسٹی کے علاقے میں اے کیو آئی 440 تک جا پہنچا، جبکہ گٹ والا کے علاقے میں فضائی معیار کا انڈیکس 332 ریکارڈ کیا گیا۔فضا میں آلودگی کے مضر اثرات کے باعث شہریوں کو سانس لینے میں دشواری، گلے میں خراش، کھانسی، آنکھوں میں جلن اور دیگر موسمی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سموگ کی شدت نے معمولات زندگی کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ آلودہ فضا میں زیادہ دیر تک رہنا انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود باریک ذرات انسانی نظام تنفس کو متاثر کر سکتے ہیں اور دمہ، الرجی، سانس کی تکالیف اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ سموگ کی شدت کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو مناسب حفاظتی ماسک کا استعمال کریں اور آلودہ فضا میں زیادہ دیر گزارنے سے اجتناب کریں۔طبی ماہرین نے بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ گھروں اور دفاتر کی کھڑکیاں بند رکھیں، آنکھوں میں جلن کی صورت میں صاف پانی سے آنکھیں دھوئیں اور سانس لینے میں دشواری یا طبیعت زیادہ خراب ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

واضح رہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس 201 سے 300 تک انتہائی غیر صحت بخش جبکہ 301 سے 500 تک خطرناک درجے میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے جی سی یونیورسٹی کے علاقے میں ریکارڈ کیا گیا 440 کا اے کیو آئی صحت عامہ کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔