ویب ڈیسک: لاہور کے علاقے پرانی انارکلی میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک پردیسی تاجر کو مبینہ طور پر روک کر تشدد اور لوٹ مار کرنے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔
متاثرہ شخص مشتاق احمد، جو کاروباری مقاصد کے لیے لاہور آیا تھا، نے تھانہ پرانی انارکلی میں باقاعدہ مقدمہ درج کروایا۔ایف آئی آر کے مطابق، پولیس اور ڈولفن فورس کے پانچ اہلکاروں نے مشتاق احمد کو روکا، تشدد کا نشانہ بنایا اور رقم کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں اہلکاروں نے تاجر کو ایک اے ٹی ایم مشین پر لے جا کر ایک لاکھ روپے نکالنے پر مجبور کیا اور پھر اسے رہا کر دیا۔واقعے کی کلوز سرکٹ ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آ گئی ہے، جس میں پولیس اور ڈولفن فورس کے اہلکاروں کو اے ٹی ایم کے باہر پہرہ دیتے ہوئے اور متاثرہ شہری کو اندر بھیجتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں دونوں فورسز کے اہلکاروں کی مشترکہ کارروائی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
ترجمان پولیس نے کہا کہ واقعے کی فوری تحقیقات کی گئی اور اس کے نتیجے میں تین اہلکاروں، عمران، عثمان اور محسن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دیگر نامزد اہلکاروں آفتاب اور ایک ڈولفن اہلکار کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔پولیس حکام نے مزید کہا کہ عوام کے تحفظ کو لاہور پولیس کی اولین ترجیح حاصل ہے اور کسی بھی اہلکار کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔