کرغزستان میں مذہبی آزادی کے مسائل: امریکی کمیشن کا اظہار تشویش

 انتہاپسندی پر مبنی نظریات کاپرچارریاستی سلامتی کیلئے بھی ممکنہ خطرہ ہے،ڈاکٹرآصف محمود
واشنگٹن(آئی این پی)امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی سربراہ وکی ہارٹزلر اور نائب چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے امید ظاہر کی ہے کہ کرغزستان میں مذہبی اقلیتوں کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیا جائے گا۔ غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے اراکین نے کرغزستان کی محتسب جمیلیا جمنبائیوا سے بشکیک میں ملاقات کی جس میں مذہبی آزادی سے متعلق قوانین سے جڑے ایشوز پر بات چیت کی گئی۔وکی ہارٹزلر نے یکم فروری سے لاگو نئے قانون کے اطلاق کے نتیجے میں چھوٹے مذہبی گروہوں کی سرگرمیوں پر ممکنہ پابندیاں پر شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کرغزستان میں ایسی مذہبی تنظیمیں جن کے حامیوں کی تعداد کم ہے وہ فعال نہیں رہ سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے تحت صرف وہی گروہ رجسٹرڈ ہوسکتے ہیں جن کی تعداد 500سے زائد ہو جبکہ بعض علاقوں میں مقامی انتظامیہ مخصوص مذہبی تنظیموں کو رجسٹریشن سے روک رہی ہے اور قانون کے تحت انہیں ہر 2سال بعد دوبارہ رجسٹریشن کا بھی پابند کردیا گیا ہے۔ڈاکٹر آصف محمود نے مذہبی تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کی جانب توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ انتہاپسندی پر مبنی نظریات کاپرچارریاستی سلامتی کیلئے بھی ممکنہ خطرہ ہے۔